1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

امریکہ اور چین کے اعلیٰ سفارت کاروں کی جکارتہ میں ملاقات

13 جولائی 2023

چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ایی اور روس و امریکہ کے وزیر خارجہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے وزراء خارجہ سے مذاکرات کرنے والے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کئی اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4Tnl1
China | US Außenminister Blinken in China
تصویر: LEAH MILLIS/REUTERS

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ 13 جولائی جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جکارتہ میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ ایی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

امريکی وزير خزانہ کا دورہ چين مکمل، روايتی حريف اب زيادہ ثابت قدم

بلنکن آسیان کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر جکارتہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کن گینگ علیل ہیں اس لیے ان کی جگہ وانگ ایی چین کی طرف سے اس میں شرکت کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن بھی چین کا دورہ کریں گی

اطلاعات کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی جمعرات کو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ پہنچ رہے ہیں اور روسی میڈیا کے مطابق وہ بھی چینی وفد سے بات چیت کریں گے۔

امریکہ اور بھارت ایک ساتھ جنگی جہاز تعینات کر سکتے ہیں

ایک دوسرے پر تنقید کے باوجود امریکہ اور چین میں بات چیت

دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان قدرے سرد تعلقات کے دور میں حالیہ ہفتوں میں نسبتاً اعلیٰ سطحی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ 'ڈکٹیٹر' ہیں، جو بائیڈن

امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے گزشتہ ماہ بیجنگ کے دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کے ساتھ ہی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی تھی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں کسی بھی امریکی وزیر خارجہ کا چین کا یہ پہلا دورہ تھا۔

بلنکن کے دورے سے چین امریکہ تعلقات 'صحیح راستے پر'، جو بائیڈن

امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے بھی گزشتہ ہفتے بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور ماحولیات سے متعلق امریکہ کے خصوصی ایلچی جان کیری کے اگلے ہفتے چین پہنچنے کی توقع ہے۔

تاہم گزشتہ ماہ ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کے چینی ہم منصب لی شانگفو کے درمیان مجوزہ مذاکرات پایہ تکیمل تک نہیں پہنچے تھے۔

چین کے ایک فوجی جنرل لی کو اس وقت امریکی پابندیوں کا سامنا ہے، جس پر بیجنگ کئی بار تنقید کر چکا ہے۔

China | US Außenminister Blinken in China
امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے گزشتہ ماہ بیجنگ کے دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کے ساتھ ہی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی تھیتصویر: Leah Millis/Pool Photo/AP/picture alliance

اس دوران واشنگٹن میں پینٹاگون اور چین کے سفارت خانے نے یہ اطلاع دی ہے کہ بدھ کے روز چین کے سفیر نے ایشیا کے لیے مخصوص امریکی دفاعی عہدیدار کے ساتھ بات چیت کے لیے پینٹاگون کا ایک غیر معمولی دورہ کیا تھا۔

اس سے قبل چین نے شکایت کی تھی کہ امریکہ فوجی مواصلات سے متعلق بات چیت کرنے سے گریزاں ہے۔ امریکی وزیر دفاع آسٹن نے بھی لی کے ساتھ بات چیت نہ ہونے کے بعد اسی طرح کی بات کہی تھی۔

نیٹو کے سربراہی اجلاس میں بیجنگ کے 'عزائم اور جابرانہ پالیسیوں' پر تنقید

بلنکن اس وقت ایشیا میں ہیں جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے لیے غیر ملکی دورے پر ہیں۔ یہ اجلاس بدھ کے روز لتھوانیا کے شہر ولنیئس میں مکمل ہوا۔

 نیٹو کے سربراہی اجلاس میں روس اور چین کے درمیان ''گہرے ہوتی ہوئی اسٹریٹجک پارٹنرشپ'' کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ بیجنگ نے بلاک کے مفادات اور سلامتی کو چیلنج کیا ہے۔

چین نے بھی اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایشیا بحرالکاہل خطے میں نیٹو کی توسیع کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر تا ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو کے غیر رکن ملک جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے بھی ولنیئس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

نیٹو کے سربراہی اجلاس کے دوران ہی بیجنگ کی فوج تائیوان کے پانیوں میں سرگرم تھی۔ امریکی کمپنی مائیکروسافٹ نے بھی بدھ کے روز کہا کہ ایک چینی گروپ نے اس کے سرکاری ای میل اکاؤنٹس ہیک کر لیے ہیں۔

دوسری جانب اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ جمعرات کے روز ہی جرمن حکومت چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر دستاویز جاری کرے گی۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، روئٹرز)

امریکی خفیہ دستاویزات لیک، معاملہ کیا ہے؟