1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایشیا

امریکہ اور بھارت ایک ساتھ جنگی جہاز تعینات کر سکتے ہیں

29 جون 2023

امریکہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور واشنگٹن مل کر ان لوگوں کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں، جو اپنے مفاد کے لیے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ نام لیے بغیر اس کا اشارہ چین کی جانب تھا۔

https://p.dw.com/p/4TCfV
Joe Biden und Narendra Modi
تصویر: PRASETYO UTOMO/G20 MEDIA/REUTERS

نئی دہلی میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی کا کہنا ہے امریکہ اور بھارت ان لوگوں کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں، جو اپنے مفاد کے لیے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ چین کی جانب تھا۔

چینی صدر شی جن پنگ 'ڈکٹیٹر' ہیں، جو بائیڈن

28 جون بدھ کے روز نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران امریکی سفیر نے کہا کہ دونوں ملک بحرالکاہل اور بحر ہند میں ایک ساتھ مل کر اپنے بحری جہاز "تعینات" کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ سے کن اہم سودوں کی توقع ہے؟

مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنانے کا عزم

مسٹر گارسیٹی نے کہا کہ امن، خوشحالی اور خود مختار سرحدوں کے تحفظ کے مفادات کی خاطر بھارت اور امریکہ بین الاقوامی معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔

بلنکن کے دورے سے چین امریکہ تعلقات 'صحیح راستے پر'، جو بائیڈن

ان کا کہنا تھا، "مجھے امید ہے کہ جلد ہی ہم بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس میں، وسطی ایشیا سے لے کر جنوبی افریقہ تک امریکہ اور بھارت کو ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ہم ان لوگوں کے خلاف اکٹھے کھڑے ہو سکتے ہیں، جو اپنے فائدے کے لیے مشترکہ بھلائی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔"

کیا بنگلہ دیش چین اور روس سے قریب تر ہو رہا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا، "ہم سمندروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بحرالکاہل اور بحر ہند اور اس سے آگے بھی اپنے بحری جہازوں کو ایک ساتھ تعینات کر سکتے ہیں۔"

چینی امریکی کشیدگی، مکالمت کے سبب امید کی کرن

ان کے بقول بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے گزشتہ ہفتے کے دورہ واشنگٹن سے بھارت اور امریکہ کی شراکت داری بہت سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کا اثر بھی پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں مودی نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا تھا اور اس دوران دونوں ملکوں نے اپنی شراکت داری بڑھانے کے ساتھ ہی کئی اہم دفاعی معاہدوں کا بھی اعلان کیا تھا۔  

امریکی سفیر کا کہنا تھا امریکہ اور بھارت کے پاس ایک مثال قائم کرنے اور انڈو پیسیفک خطے اور اس سے باہر بھی ایک زیادہ پرامن دنیا بنانے کی طاقت ہے۔

Indien Uttarakhand Militärmanöver mit US-Truppen in Grenzregion zu China
تصویر: Manish Swarup/AP/picture alliance

ان کا مزید کہنا تھا، "بدقسمتی سے جیسا کہ ہم نے گزشتہ تین برسوں کے دوران دیکھا ہے، کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں، جہاں بعض ممالک خود مختار سرحدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، تشدد اور تباہی کے ذریعے اپنے دعوؤں کو آگے بڑھاتے ہیں۔"

انہوں نے چین اور روس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ وہ دنیا نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ یہ وہ دنیا بھی نہیں ہے، جس کی ہمیں ضرورت ہے۔" امریکی سفیر نے کہا کہ بھارت اور امریکہ ایک ساتھ مل کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی ذہنیت کے خلاف مضبوط اقدام کر سکتے ہیں۔

انسانی حقوق پر بات چیت

 بھارت میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورت حال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اس پر بھارت کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا، ’’جیسا کہ ہم نے ہمیشہ کیا ہے، اور جیسا کہ ہم دنیا کے دیگر تمام ممالک میں بھی کرتے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے جب بھارتی وزیر اعظم مودی امریکہ کے سرکاری دورے پر تھے، تو اس وقت کئی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھائے گئے تھے کہ مودی کے دورہ حکومت میں بھارت کی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے، ایک معاندانہ ماحول پیدا ہوا ہے۔

اس پس منظر میں سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران سابق امریکی صدر اوباما نے کہا تھا، ''اگر میں وزیر اعظم مودی، جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں، کہ ساتھ بات چیت کرتا تو میری دلیل کا ایک حصہ یہ بھی ہوتا کہ اگر آپ بھارت میں نسلی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتے ہیں، اور قوی امکان اس بات کا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے شروع ہو جائیں گے۔"

ایک حلقے کا کہنا ہے کہ چین کی وجہ سے بھارت سے قربت کے لیے بائیڈن انتظامیہ نے ان حلقوں کی تنقید کوبھی نظر انداز کر دیا، جو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے ماتحت بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔

بھارت روس پر لگی پابندیوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں سے ایک