1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

سخت ایسٹر لاک ڈاؤن: فیصلہ واپس، تنقید کے بعد میرکل کی تعریف

24 مارچ 2021

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایسٹر کے مسیحی تہوار کے دنوں میں ملک میں سخت تر لاک ڈاؤن کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کا اعلان پیر کو کیا تھا، جس پر خاصی تنقید سامنے آنے کے بعد انہوں نے دلی معذرت کا اظہار کیا۔

https://p.dw.com/p/3r4Ga
تصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

میرکل نے ملک کی سولہ وفاقی ریاستوں کے سربراہان حکومت کے ساتھ طویل آن لائن مشاورت کے بعد بائیس مارچ کو اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ایسٹر کے مذہبی تہوار کے دنوں میں پورے ملک میں سخت تر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔

پہلی بار دو ریسٹ ڈے

یہ سخت تر لاک ڈاؤن یکم اپریل سے لے کر پانچ اپریل تک نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان پانچ دنوں میں سے تین دن (گڈ فرائیڈے، ایسٹر سنڈے اور ایسٹر منڈے) کو پورے ملک میں ویسے ہی عام تعطیل ہوتی ہے، لیکن اس بار حکومت نے  جمعرات یکم اپریل اور ہفتہ تین اپریل کو بھی ریسٹ ڈے قرار دے دیا تھا۔

جرمنی میں ایسٹر کے موقع پر سخت لاک ڈاؤن

اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہفتے کے دن چند گھنٹوں کے لیے صرف اشیائے خوراک کی مارکیٹیں کھلنے کے علاوہ تقریباﹰ پانچوں دن ہی جرمن معیشت اور عوامی زندگی بند ہو کر رہ جاتی۔

یہ فیصلہ معیشت کے لیے اچھا تو نہیں تھا مگر میرکل نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر جرمنی کو کووڈ انیس کی وبا کی تیسری ہلاکت خیز لہر سے بچانا ہے، تو ایسا کرنا پڑے گا۔

لاک ڈاؤن میں ممکنہ توسیع پر جرمنی میں بے چینی

Deutschland  | Kirche St. Nicolai in Lippstadt
گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی ایسٹر کے مذہبی تہوار کے موقع پر معمول کی عبادات گرجا گھروں کے بجائے آن لائن یا گھروں میں ہی کی جائیں گیتصویر: Karin Schlueter

'اقتصادی نتائج نظر انداز کیے گئے‘

اس حکومتی فیصلے کے بعد انگیلا میرکل اور صوبائی حکومتی سربراہان پر عوامی اور کاروباری شعبے کی طرف سے شدید تنقید کی جانے لگی تھی کہ نیت چاہے اچھی تھی، مگر ایسا کرتے ہوئے اس عمل کے نتائج کو کافی حد تک پیش نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ مزید یہ کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشاورتی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کافی حد تک ریاستی حکومتوں پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے پر کس طرح عمل درآمد کرنا چاہتی تھیں۔

جرمنی کورونا لاک ڈاؤن میں ایک بار پھر توسیع کی جانب

اقتصادی شعبہ پہلے ہی کورونا وائرس کی وبا اور طویل لاک ڈاؤن کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کاروباری حلقوں کو شکایت تھی کہ مسلسل پانچ دنوں تک پورے ملک کو بند رکھنے کی اقتصادی قیمت کیا ہو گی اور آیا جرمنی یہ قیمت چکانے کے لیے تیار ہے۔

فیصلے کی منسوخی اور معذرت

اس تنقید کے تناظر میں چانسلر میرکل نے بدھ کے روز اپنے ایک مختصر پیغام میں اعتراف کیا کہ ایسٹر کے دنوں میں سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کافی زیادہ عوامی بے یقینی کی وجہ بنا ہے، جس پر انہیں افسوس ہے اور وہ دل سے معذرت خواہ بھی ہیں۔

ایسٹرا زینیکا: جرمن ماہرین نے بلڈ کلاٹنگ کی وجہ تلاش کر لی

عارضی معطلی کے بعد جرمنی اور فرانس ميں ويکسين مہم بحال

ساتھ ہی میرکل نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ واپس لیتی ہیں اور اب یکم سے پانچ اپریل تک ایسٹر کی تین قانونی عام تعطیلات کے سوا کوئی 'ریسٹ ڈے‘ نہیں ہو گا اور موجودہ پابندیوں کا احترام کرتے ہوئے جمعرات یکم اپریل اور ہفتہ تین اپریل کو بھی معمول کے کاروبار کھلے رہیں گے۔

میرکل پر تنقید کے بعد ان کی تعریف بھی

انگیلا میرکل کے اس اعلان کے بعد جو حلقے وفاقی چانسلر پر شدید تنقید کر رہے تھے، ان میں سے بہت سے ان کی تعریف بھی کرنے لگے۔ سیاسی، اقتصادی اور عوامی حلقوں نے کہا کہ یہ بطور انسان اور سیاستدان چانسلر میرکل کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے اپنے 'اچھی نیت اور برے نتائج والے‘ فیصلے کو مسنوخ کرتے ہوئے ایمانداری کا مظاہرہ کیا اور عوام سے معذرت کر لی۔

عمر بھر کے لیے لاک ڈاؤن: معذور افراد پر کیا بیت رہی ہے؟

میرکل نے آج اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بہت کم وقت میں اس فیصلے پر ملک گیر عمل درآمد قدرے مشکل ہوتا اور پھر ملازمین کو تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی کے معاملے میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

جرمن پارلیمان میں بازگشت

میرکل کے آج کے بیان پر جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ میں بھی بحث ہوئی، جس میں کئی اراکین نے اپنی تقریروں میں کہا کہ حکومت کو ایسے سخت ایسٹر لاک ڈاؤن کا کوئی فیصلہ سرے سے کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔

جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا کو سن2020 میں اربوں ڈالرکا خسارہ

دوسری طرف کئی ارکان نے کہا کہ انگیلا میرکل کی بطور سیاستدان ایک بڑی خوبی ان کی طرف سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لینا ہے۔ ارکان پارلیمان نے کہا کہ ان کی طرف سے حکومتی فیصلہ واپس لے لینا اور اس پر عوام سے معذرت کرنا ان کے بڑے پن کا ثبوت ہے۔

م م / ش ج (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)