1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی فوج اور حکومت ميں تنازعہ: ممکنہ نتائج

24 جنوری 2012

پاکستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے فوج اور سول حکومت کے درميان ایک کشمکش کی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کا بظاہر آغاز گزشتہ برس مئی ميں امريکی خصوصی فوجی دستے کی خفيہ کارروائی ميں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ہوا۔

https://p.dw.com/p/13p7o
تصویر: dapd

اس واقعے کے بعد فوج پرسخت تنقيد کی گئی کہ وہ امريکہ کی جانب سے پاکستان کی حاکميت کی پامالی کو روکنے ميں ناکام رہی۔

ايبٹ آباد ميں امريکی خصوصی فوجی دستے کی کارروائی اور اس دوران اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج اور حکومت کے درميان تعلقات کی نوعيت اس قدر خراب ہو گئی تھی کہ مبينہ طور پر پاکستانی صدر زرداری نے امريکہ ميں پاکستانی سفير کے ذريعے ایک کم قابل اعتبار سمجھے جانے والے شخص کے توسط سے امريکی حکام کو يہ پيغام بھجوايا کہ وہ پاکستانی فوج کی ممکنہ بغاوت کے خلاف سول حکومت کی مدد کريں۔

اس کے بعد سے اسلام آباد ميں سياست پر ميمو گيٹ کے سائے چھائے ہوئے ہيں۔ امريکہ ميں پاکستانی سفير استعفٰی دے چکے ہيں۔ ملک کی سپريم کورٹ يہ چھان بين کر رہی ہے کہ کيا امريکيوں سے مدد کی مبينہ درخواست کو غداری قرار ديا جا سکتا ہے؟ کيونکہ فوج کئی دفعہ بغاوت کر چکی ہے اس ليے بہت سے لوگوں کو جلد ہی پاکستان کی سڑکوں پر فوجی ٹينکوں کے دندنانے کا خدشہ ہے۔ افواہوں کا زور ہے۔

سن 2010 کا سيلاب
سن 2010 کا سيلابتصویر: UN Photo/Evan Schneider

پچھلی فوجی بغاوت جنرل پرويز مشرف نے سن 1999 ميں برپا کی تھی۔ وہ سن 2008 تک حکومت کرتے رہے۔ خاص طور پر وکلاء تحريک نے دوبارہ جمہوری انتخابات کی راہ ہموار کی۔ سن 2008 ميں انتخابات کے ذريعے قائم ہونے والی حکومت کئی مرتبہ اپنی نا اہلی کا ثبوت دے چکی ہے۔ ملک ميں کرپشن عام ہے۔ طاقتور خاندان اور ٹولے دھاندلی کر رہے ہيں۔ دو بار، سن 2010 اور سن 2011 ميں حکومت ملک ميں سيلاب سے متاثر ہونے والوں کو مدد دينے ميں نا اہل ثابت ہوئی۔

اس کا مطلب يہ نہيں ہے کہ پاکستانی رائے عامہ فوجی بغاوت کی صورت ميں غير مشروط طور پر اُس کی حمايت کرے گی۔ اس وقت پاکستانی فوج کے ليے حالات سازگار نہيں ہيں۔ پاکستانيوں کے ذہنوں ميں مشرف دور کی تلخياں ابھی تازہ ہيں۔ اس کے علاوہ مشرف کے دور ميں سول سوسائٹی يقيناً طاقتور بنی ہے۔ سپريم کورٹ حکمرانوں کے بالمقابل ايک ايسی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے جو اس سے پہلے کبھی ديکھنے ميں نہيں آئی تھی۔ وکلاء کی مدد سے عدليہ، رياست کے تيسرے بڑے ستون کی حيثيت سے اپنا مقام مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ سن 2002 ميں بھرپور آزادی حاصل کرنے کے بعد ميڈيا ہميشہ سے زيادہ آزاد اور طاقتور ہو گیا ہے۔

پاکستان کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے۔ خالی خزانے کے ساتھ فوج کو حکومت پر قبضہ کرنے سے کيا فائدہ ہو سکتا ہے؟ پاکستان عملی طور پر ديواليہ ہو چکا ہے۔ امريکی امداد کے بغير اُس کا کام نہيں چل سکتا اور فوجی بغاوت کی صورت ميں کوئی بھی امريکی صدر کانگريس سے پاکستان کی فوجی اور مالی امداد جاری رکھنے کو منظور نہيں کرا سکتا۔ اسلام آباد چين کا رخ کر سکتا ہے۔ ليکن کيا چينی اس ديواليے ملک کی مدد کو تيار ہوں گے؟ اس کی کيا قيمت ادا کرنا ہوگی؟ فوج اسے اچھی طرح جانتی ہے۔

عمران خان
عمران خانتصویر: AP

اس ليے فوج ستمبريا اکتوبر میں نئے انتخابات چاہتی ہے تاکہ صدر زرداری کی جگہ کوئی ايسا سياستدان آ سکے جو ان سے قريب ہو۔ ماہرين کے خيال ميں اس ليے فوج تحريک انصاف کے عمران خان کی سرپرستی کر رہی ہے جن کے قدامت پسند اسلامی نظريات کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے متوسط طبقے ميں مقبوليت حاصل ہے۔ اب بھی کرپٹ سمجھے جانے والےصدر زرداری کے خلاف بھی عمران خان کی مہم مقبول ہے۔

تبصرہ: گراہم لوکاس / شہاب احمد صديقی

ادارت: شادی خان سيف

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں