1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سابق امریکی صدر ٹرمپ تمام چونتیس الزامات میں مجرم قرار

31 مئی 2024

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے ایسے پہلے صدر بن گئے ہیں جنہیں کسی جرم کے لیے مجرم قرار دیا گیا ہو۔ عدالت کا یہ تاریخی فیصلہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے صرف چند ماہ پہلے آیا ہے، جس میں وہ خود بھی ممکنہ امیدوار ہیں۔

https://p.dw.com/p/4gTW6
ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک بہت ہی معصوم شخص ہوں
ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک بہت ہی معصوم شخص ہوںتصویر: Justin Lane/REUTERS

سابق صدر77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے کاروباری ریکارڈ میں خرد برد اور فحش فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو منہ بند رکھنے کے لیے ادا کی گئی رقم (ہش منی) کو چھپانے کے لیے جعلی کاغذات تیار کرنے سمیت 34  الزامات کا سامنا تھا۔

جمعرات کے روز امریکی ریاست نیویارک کی ایک عدالت کی 12رکنی جیوری نے انہیں ہش منی سمیت تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔ جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کی جس کے بعد چند منٹوں میں متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔

 وہ امریکہ کی 250 سالہ تاریخ کے پہلے ایسے سابق صدر بن گئے ہیں جنہیں کسی جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔

سزا کا اعلان گیارہ جولائی کو کیا جائے گا۔اصولی طور پر انہیں ہر جرم کے لیے چار سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن ماہرین قانون کے مطابق انہیں رعایت ملنے کا امکان زیادہ ہے۔

امریکی عدالت نے ٹرمپ کو صدارتی انتخاب کے لیے نااہل قرار دے دیا

ایک اور امریکی ریاست نے ٹرمپ کو الیکشن لڑنے سے روک دیا

عدالت نے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جو بائیڈن کے خلاف اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے سے نہیں روکا ہے۔ وہ جیل جانے کی صورت میں بھی اپنی مہم چلاسکتے ہیں۔

صدر بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے
صدر بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہےتصویر: Mike Segar/REUTERS

'میں ایک انتہائی معصوم آدمی ہوں'، ٹرمپ

عدالت کے فیصلے کے بعد سابق صدر ٹرمپ نے مقدمے کی سماعت کو غیر شفاف قرار دیا اور کہا کہ ججوں کا رویہ متعصبانہ تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

جیوری کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد ٹرمپ نے فوراً اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'میں ایک بہت ہی معصوم شخص ہوں۔‘

عدالت نے ٹرمپ کو خاتون سے جنسی بدسلوکی کا مجرم قرار دے دیا

’میں بے قصور ہوں،‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا عدالت میں بیان

 انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 'اصل فیصلہ‘ رائے دہندگان کی طرف سے آئے گا۔ انہوں نے اس مقدمے کو ’دھاندلی زدہ‘ اور ’ذلت آمیز‘ قرار دیا۔

 ٹرمپ نے ماضی میں بھی تمام مقدمات میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ صدر جو بائیڈن کے ڈیموکریٹک اتحادی انہیں سیاسی طورپر نقصان پہنچانے کی سازش کررہے ہیں۔

 ٹرمپ کے ساتھی رپبلکن ارکان نے بھی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ"آج کا دن امریکی تاریخ کا شرمناک دن ہے۔"

جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا
جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایاتصویر: Steven Hirsch/New York Post/AP/pool/picture alliance

صدر بائیڈن کا ردعمل

صدر بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے عدالت کے فیصلے کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 'کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘

 بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'ٹرمپ نے ہماری جمہوریت کے لیے جو خطرہ پیدا کیا ہے وہ پہلے کبھی اس سے زیادہ نہیں تھا۔‘

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدراتی انتخاب میں چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں، جس میں ٹرمپ ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہیں۔ چند ہفتے بعد ریپبلیکن کی نیشنل کنونشن ہونے والی ہے جس میں ٹرمپ کو پارٹی کی جانب سے باضابطہ صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

پورن فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز
ٹرمپ نے پورن فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ادا کیے تھے تاکہ ڈینیئلز یہ انکشاف کرنے سے منہ بند رکھے کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ ایک رات کا جنسی تعلق قائم ہوا تھاتصویر: SMG/ZUMA Wire/picture alliance

ٹرمپ پر کیا الزامات تھے

ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک وقت میں اپنے وکیل مائیکل کوہن کو 2016 کے انتخابات سے پہلے، پورن فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ڈینیئلز کو یہ انکشاف کرنے سے منہ بند رکھا جاسکے کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ ایک رات کا جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔ ٹرمپ نے اس کام کے لیے اپنے کاروباری ریکارڈ میں جعل سازی کی۔

اگر اس وقت ڈینیئلز کا دعویٰ منظر عام پر آجاتا تو انتخابی مہم میں ٹرمپ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ منہ بندرکھنے کے لیے رقم ادا کرنا اور اس ادائیگی کو غیرقانونی طریقے سے چھپانا ایک وسیع تر جرم کا حصہ تھے جس کا مقصد ووٹروں کو ٹرمپ کے رویے اور کردار کے بارے میں لاعلم رکھنا تھا۔

ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکلاء کا تاہم موقف تھا کہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش محض جمہوریت ہے اور سابق صدر نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔

ہش منی اور کاروباری ریکارڈ میں خردبرد کے علاوہ سابق صدر ٹرمپ کو 2020 کے انتخابات میں بائیڈن کی بطور صدر توثیق کا عمل روکنے کی سازش کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویزات اپنے ساتھ لے جانے کے وفاقی اور ریاستی الزامات کا بھی سامنا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اگر الیکشن جیت کر صدر بن جاتے ہیں تو بھی بحیثیت صدر وہ خود کو معافی نہیں دے سکیں گے کیونکہ یہ مقدمہ دفاقی حکومت نے نہیں بلکہ ریاست نیویارک نے قائم کیا تھا، اور اس سزا کی معافی صرف نیویارک کے گورنر ہی دے سکتے ہیں۔

ج ا/ ص ز (اے پی، روئٹرز، اے ایف پی)