1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نوجوانوں میں غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان

11 اکتوبر 2022

نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان کےتعلیمی نظام کو ایک بوسیدہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں نئے اور دلچسپ علوم کا ذخیرہ ان کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4I1aZ
Sanober Nazeer
تصویر: privat

جس ملک میں جان و مال، تعلیم، صحت سے لے کر پینے کا پانی بھی اپنی جیب سے ہی لے کر خریدنا پڑے اس ملک میں کیونکر کوئی بیرون ملک سے اعلی تعلیم حاصل کر کے واپس آئے؟ یہ جواب ہے پاکستان کے بیشتر  نوجوانوں کا جو کسی نا کسی حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کوچ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

 

پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی پچیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سنتے آئے تھے کہ جس ملک میں نوجوان اکثریت میں ہوں تو اس کی قسمت کا ستارہ عروج پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نوجوانوں کی اب اکثریت کم عمری سے ہی دوسرے ممالک جانے کے خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔

آج سے تین دہائی قبل ایسا رجحان بہت کم تھا۔ پچھلے دس سال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی بیرون ملک جانے کے رجحان میں ایک دم تیزی نظر آتی ہے۔ پاکستان کے بالخصوص بڑے شہروں میں لڑکے اور لڑکیاں انٹر یا اے لیول کے بعد غیر ملکی یونیورسٹیوں میں داخلے کی تگ دو میں لگ جاتے ہیں۔

جبکہ بالعموم چھوٹے شہروں کے نوجوان ، بیرون ملک میں کام یا امیگریشن حاصل کرنے کی کوششوں میں اپنی جان جو کھوں میں ڈالتے ہیں۔

مقصد چاہے تعلیم حاصل کرنا ہو یا کام کا حصول، بنیادی بات پاکستان سے فرار ہی نظر آتی ہے۔

لیکن اس کی وجوہ کیا ہیں کہ ملک کا یہ اثاثہ کسی نا کسی حوالے سے بیرون ملک سکونت اختیار کرنے میں ہی اب اپنی بھلائی سمجھتا ہے۔ تعلیم کی غرض سے جانے والے طلباء کے حوالے سے بات کی جائے تو مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

بیرون ملک کے سند یافتہ طلباء کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو بذات خود ایک خود اعتمادی پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ہمارا نصاب بھی وہی گھسا پٹا ہے جو برسوں سے رٹایا جارہا ہے۔

جو نوجوانوں کو جوابات دینے پر تو مائل کرتا ہے لیکن سوال اٹھانے کی جرات نہیں دیتا۔  نئے علوم کا فقدان نوجوانوں کے ذہنوں کو زنگ آلود کر رہا ہے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ نئی نسل شخصی آزادی چاہتی ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی معاشرے میں رہتے ہوئے وہ ہر مقام پر دوسروں کے حساب سے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

غیر ملکی درسگاہوں میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اور مختلف مذاہب و ثقافت کے حامل لوگ رنگارنگی کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ کثیرالثفاقتی ہماری نئی نسل کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

خاص طور سے لڑکیوں کے لیے پاکستانی معاشرہ دن بدن ایک جیل کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔

خواتین کے قتل، جنسی تشدد اور ہراسانی کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی بنا پر نوجوان بچیوں میں اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے بھی ایک خوف کا عنصر  پیدا ہو گیا ہے لڑکیوں کے لباس سے لے کر ان کی تمام انفرادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کی نسبت اب روشن خیال اور پڑھے لکھے سمجھدار والدین بھی اپنی بیٹیوں کو تعلیم یا کام کرنے کی غرض سے بیرون ملک بھیج رہے ہیں ۔

اس میں قطعا کوئی مغالطہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کی معاشی اور سیاسی حالات نے بھی نوجوانوں کو بدظن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔آبادی جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اس تعداد سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں نوجوان ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے روزگار کے نئے مواقع آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

اندرون پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کی نوجوان نسل بیروزگاری اور مہنگائی کا عذاب جھیلنے کے بجائے بیرون ملک قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ کام کے حصول کے لیے مڈل ایسٹ سب سے قریبی ہدف ہوتا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا میں ابھی بھی اعلی مہارت یافتہ افراد کے لیے پرکشش پیشکش موجود ہیں جن سے کئی پاکستانی فائدہ اٹھا کر وہاں آباد ہو رہے ہیں۔

 

لیکن تعلیم حاصل کرنا مقصود ہو یا کام، بیرون ملک جانے کے لیے صاحب استطاعت ہونا پہلی شرط ہے۔ زیادہ تر بین الاقوامی تعلیمی درسگاہوں میں داخلے کے لیے میرٹ جیسی کوئی چڑیا نہیں۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی صورتحال ہے۔ وہ طلباء جنھوں نے میٹرک یا اے لیولز میں اے اسٹار لیے اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی سرگرم رہنے کے باوجود بیرون ملک اپنی تعلیم اور رہن سہن کے اخراجات اٹھانے کی سکت نا رکھنے کی بنا پر داخلے سے محروم رہے۔ ایسے نوجوانوں میں محرومی کا احساس شدت اختیار کر جانا فطری عمل ہے- جس کی بنا پر وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیل اور تفریح کے ذرائع نا ہونے کے برابر ہیں۔ صحت مند سرگرمیوں کے فقدان نے ان میں ایک غم و غصہ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر نوجوانوں کی بڑی تعداد محرومی کا شکار ہو کر ملک سے فرار کے رستے ڈھونڈتے ہیں۔

ایسے افراد صرف ویزہ حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی کی پوری جمع پونجی لٹانے پر بخوشی راضی ہوتے ہیں۔ اس چکر میں وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جن کا دھندا لوگوں کو لوٹنا ہوتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں ایسے دو نمبر کام کرنے والے ٹریول ایجنٹ ایسے طلباء اور افراد کے انتظار میں ہوتے ہیں جو اس ملک سے جانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہوتے ہیں۔

ایسے سینکڑوں حادثے آئے دن رونما ہوتے ہیں لیکن ان کا کوئی حکومت سدباب کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ نئی نسل سمجھتی ہے کہ پاکستان میں اب ان کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ جس کی بنا پر وہ یہاں رہیں لہذا بیرون ملک کی شہریت حاصل کرنا ان کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے چاہے وہ تعلیمی حوالے سے ہو یا حصول معاش کے لیے۔

سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ ہماری ریاست اور حکومت کب خواب غفلت سے جاگیں گے اور ہماری نئی نسل کو اپنے ملک میں وہ ساری سہولتیں اور روزگار کو یقینی بنائیں گے جو وہ دوسرے ممالک میں بس کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر، زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو  کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Sanober Nazir
صنوبر ناظر تاریخ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔ مختلف غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے ساتھ وابستہ رہ چکی ہیں۔