1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیٹو بھارت اور چین کے درمیان 'مسائل' پیدا کر رہا ہے، روس

20 جنوری 2023

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغربی فوجی اتحاد نیٹو پر الزام لگایا ہے کہ وہ بھارت اور چین کے درمیان "اضافی مسائل'' پیدا کرنے کے لیے "چالیں" چل رہا ہے۔ بھارت اور چین کے مابین پہلے سے ہی تعلقات کشیدہ ہیں۔

https://p.dw.com/p/4MTBj
Russischer Außenminister Sergej Lawrow
تصویر: Yuri Kochetkov/REUTERS

بھارتی  وزارت خارجہ نے تاہم روسی وزیر خارجہ کے بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ سرگئی لاوروف کے ذاتی مشاہدات ہیں اور کسی بھی ملک کے ساتھ بھارت کے باہمی تعلقات کسی دوسرے ملک کے ساتھ اس کے تعلقات سے متصادم نہیں ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نئے سال کے موقع پر رسمی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو صرف یورپ میں ہی زندگیوں کو کنٹرول کرنے تک محدود نہیں ہے۔ "جون 2022 میں نیٹو کی میڈرڈ سمٹ میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس فوجی اتحاد کے عالمی اور بالخصوص ایشیا بحرالکاہل کے حوالے سے اہداف ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ ایسی چالیں چلنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے بھارت اور چین کے درمیان تعلقات میں اضافی مسائل پیدا ہوں۔"

تین روزہ جی سیون سمٹ: پہلے دن مرکزی موضوع روسی یوکرینی جنگ

لاوروف ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ہند بحرالکاہل خطے کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کا روس اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات  پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس امر کو یقینی بنانے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں کہ، ہمارے دو عظیم دوست اور بھائی، بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سکون کے ساتھ رہ سکیں
روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس امر کو یقینی بنانے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں کہ، ہمارے دو عظیم دوست اور بھائی، بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سکون کے ساتھ رہ سکیںتصویر: Sergei Savostyanov/dpa/TASS/picture alliance

'مغرب بھارت اور چین کی ترقی میں اڑچن'

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، "ہم بھارت کے دوست ہیں۔ ہم اس امر کو یقینی بنانے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں کہ، ہمارے دو عظیم دوست اور بھائی، بھارت اور چین ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ یہ ہماری پالیسی ہے جسے ہم نہ صرف ایس سی او (شنگھائی تعاون تنظیم) یا برکس کے ذریعہ فروغ دے رہے ہیں بلکہ ہم یہ کام ایک خصوصی 'ٹرائیوکا' یا آر آئی سی (روس، انڈیا، چین) کے ذریعہ بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین جیسے ممالک ترقی پذیر ممالک ہیں اور ان میں ترقی کے غیر معمولی امکانات ہیں لیکن مغرب انہیں ایسا ہونے نہیں دے رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ولادیمیر پوٹن میں کیا باتیں ہوئیں؟

انہوں نے کہا،"یہ ممالک اقتصادی لحاظ سے ترقی پذیر ہیں۔ (ہمارے اسٹریٹیجک پارٹنر) چین اور بھارت، ترکی، برازیل، ارجینٹینا، مصر اور بہت سے دیگر افریقی ملکوں کو دیکھیے۔ ان کے پاس موجود بے پناہ قدرتی وسائل کے مدنظران کے پاس ترقی کے غیر معمولی امکانات ہیں۔"

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، "اقتصادی ترقی کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ لیکن مغرب اپنے طور پر انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ یہ کام ایسے میکانزم کے ذریعہ کر رہا ہے جو اس کے تیار کردہ گلوبلائزیشن کے فریم ورک کے تحت ان کے اپنے مفادات کو پورا کرتے ہیں۔

روس اور چین مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے

خیال رہے کہ ایشیا کے دو بڑے پڑوسی بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات سمیت کئی امور پر شدید اختلافات ہیں۔ بھارت کے مشرقی سرحد پر دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مئی 2020 سے جاری تعطل متعدد کوششوں کے باوجود اب تک ختم نہیں ہوسکا ہے۔ ہند بحرالکاہل میں بھی چین کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی پر بھارت کو سخت اعتراض ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ ہند بحراکاہل میں تمام ملکوں کو آمد و رفت اور کنکٹیویٹی کی آزادی ہونی چاہئے اور چین کو تمام ملکوں کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔

 ج ا/ ص ز (ایجنسیاں)

.