1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’مسلمانوں اور مسیحیوں میں قربت پیدا ہوئی ہے‘

24 دسمبر 2021

جرمنی کے ماہر الہیات اور اسلامی اسکالر فیلکس کورنر کے مطابق پوپ فرانسس کو مسلم دنیا میں بہت سے لوگ رول ماڈل کے طور پر اور قدر کی نگاہ سے دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پوپ فرانسس بھی مذہبی ہم آہنگی کے داعی ہیں۔

https://p.dw.com/p/44oN6
Papst Franziskus in Abu Dhabi
تصویر: Reuters/Handout Vatican Media

جرمنی کے ماہر الہیات اور اسلامی اسکالر فیلکس کورنر کے مطابق حالیہ عشرے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان قربت پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، '' بہت سے مسلمان پوپ فرانسس کو نسل انسانی کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ ایک ایسا نمائندہ جو واقعی انسانیت کے لیے جینا چاہتا ہے۔‘‘

پوپ فرانسس ماضی میں نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کے لیے بیانات دے چکے ہیں بلکہ جنگ زدہ مسلم ممالک سے آنے والے مہاجرین کے حق میں کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔ ان کے ایسے بیانات کے بعد ہی یورپی ممالک کے متعدد کلیساؤں نے مسلمان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔

مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے مارچ سن دو ہزار انیس میں مراکش کی کیتھولک کمیونٹی سے مسلمانوں کو عیسائیت کی تبلیغ نہ کرنے کی تلقین بھی کی تھی۔ تب بھی انہوں نے مسلمان اور مسیحی برادری کے درمیان مزید بھائی چارے کے فروغ دینے کا اظہار بھی کیا ہے۔

Irak Besuch des Papst Franziskus in Ur
تصویر: Andrew Medichini/AP Photo/picture alliance

اُسی سال فروری میں پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا تھا، جہاں مصر اور اسلامی دنیا کے مشہور ادارے جامعہ الازہر کے امام نے ایک ایسے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد کیتھولک مسیحیوں اور مسلمانوں کے مابین برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دینا تھا۔ پوپ فرانسس مراکش جانے سے پہلے ترکی، بوسنیا ہیرزیگووینا، اردن، فلسطینی علاقے، آذربائیجان اور مصر کے دورے بھی کر چکے ہیں۔

جرمنی کے اس ماہر الہیات کا مزید کہنا تھا کہ مسلمان موجودہ پوپ کی جس خصوصیت کو خاص طور پر پسند کرتے ہیں، وہ ان کی سب کے لیے ہمدردی ہے۔ تاہم اس ماہر ادیان کا مزید کہنا تھا کہ پوپ فرانسس کے پیشرو پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کے دور میں بھی عیسائیوں اور مسلمانوں کے تعلقات میں تحریک پیدا ہوئی تھی۔ لیکن انہوں نے سن دو ہزار چھ میں کی گئی ایک تقریر میں وہ پرانا فقرہ دہرایا تھا کہ 'اسلام تلوار سے پھیلا ہے‘  اور اس بیان سے غلط فہمیوں نے جنم لیا تھا۔ تاہم پروفیسر کورنر کا زور دیتے ہوئے کہنا ہے کہ انہوں نے اس بیان کے بعد بین المذہبی مکالمے میں غلطیوں سے سیکھنے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی اور اسلام کے لیے احترام کے الفاظ استعمال کیے تھے۔

 ماہر الہیات  فیلکس کورنر نے حال ہی میں برلن کی ہمبولڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار کیتھولک تھیولوجی میں بطور پروفیسر پڑھانا شروع کیا ہے۔ اس شعبے کی بنیاد سن 2019 میں رکھی گئی تھی۔

 ا ا / ع ح ( روئٹرز، اے ایف پی، کے این اے)