1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قزاقستان الیکشن، توقایف نے میدان مار لیا

10 جون 2019

قزاقستان کے عبوری صدر قاسم جومارت توقایف نے صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ نور سلطان نذربائیف کی جگہ اس منصب پر براجمان ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/3K8A8
Kasachstan Präsident Tokajew
تصویر: picture-alliance/dpa/T. Batyrshin

خبر رساں ادارے روئٹرز نے قزاقستان کے الیکشن کمیشن کے حوالے سے پیر کے دن ابتدائی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ قاسم جومارت توقایف نے صدارتی الیکشن میں 71 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اتوار کو منعقد ہوئے اس انتخابی عمل میں قاسم کا مقابلہ چھ  امیدواروں سے تھا۔ تاہم یہ تمام ملکی ووٹرز کے لیے نئے چہرے تھے۔

اس الیکشن کے دوران ہی اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے انتخابی عمل کو 'غیرمنصفانہ‘ قرار دے دیا تھا۔ الیکشن کے دن ہی مظاہرے کیے گئے، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ سو مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ وسطی ایشیا کی اس ریاست میں عوام کو آزادی اظہار میں کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Kasachstan Präsident Tokajew
تصویر: Getty Images/AFP/A. Zemlianichenko

مقامی میڈیا کے مطابق پیر کے دن بھی الماتی میں مظاہرے کیے گئے لیکن اتوار کے مقابلے میں مظاہرین کی تعداد کافی کم رہی۔ قزاقستان کی ریاست ملکی سیاست اور عوامی مباحث پر سخت کنٹرول رکھتی ہے۔ زیادہ تر ملکی میڈیا ہاؤسز نذربائیف پر تنقید سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ اتوار کے دن ملک میں سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا گیا تھا۔

یورپی تنظیم برائے تعاون اور سکیورٹی OIC کے مبصرین پیر کی شب تک اس الیکشن پر اپنا تبصرہ جاری کر دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم ماضی میں کہہ چکی ہے کہ قزاقستان میں انتخابی عمل نہ تو شفاف ہوتا ہے اور نہ ہی منصفانہ۔

سابق صدر نذربائیف تیل سے مالا مال اس ملک پر گزشتہ تیس برسوں سے حکمرانی کر رہے تھے۔ 78 سالہ نذربائیف  نے مارچ میں اپنے عہدے کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے قبل اپنے قریبی ساتھی توقایف کو صدر کے عہدے کے لیے منتخب کیا تھا۔

Kazakhstan Presidential Election
تصویر: picture-alliance/dpa/A. Kaliyev

صدر کے عہدے سے الگ ہونے کے باوجود نذربائیف ملک کی ایک طاقتور ترین سیاسی شخصیت قرار دیے جاتے ہیں۔ ان پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

مارچ میں ہی نذربائیف نے سینیٹ کی اسپیکر کے طور پر اپنی بیٹی کا انتخاب کیا تھا۔ قبل ازیں اس اہم عہدے پر اتوار کے الیکشن میں کامیاب ہونے والے توقایف براجمان تھے۔ ملک کے کئی اہم عہدوں پر نذربائیف کے قریبی رشتہ دار یا ساتھی تعینات ہیں۔

دوسری طرف ہمسایہ ریاستوں ازبکستان اور کرغزستان کے صدور نے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے پر قاسم جومارت توقایف کو مباکبادی پیغامات ارسال کیے ہیں۔ توقایف کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی ترقی کی خاطر تمام عوام کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔