1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

 فٹ بال کا عالمی کپ: کیا روس کمزور ترین میزبان ٹیم ہے؟

عدنان اسحاق ژینز کریپیلا
17 مئی 2018

روس میں فٹ بال کا عالمی کپ چودہ جون سے شروع ہورہا ہے۔ تاہم اس دوران میزبان ٹیم روس کی کارکردگی کے حوالے سے شک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/2xsk6
تصویر: picture-alliance/dpa/C. Charisius

ہدف بالکل واضح ہے،’’ ہمیں خود کو بہترین میزبان ٹیم ثابت کرنا ہو گا۔‘‘ یہ بات روسی فٹ بال ٹیم کے کوچ اسٹانسلاو چرچیسوف نے کہی ہے، ’’ہمیں فائنل یا سیمی فائنل میں جرمنی کے مد مقابل ہونا ہے۔ اگر ہم اس مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں دنیا کا خوش قسمت ترین شخص ہوں گا۔‘‘

روسی کوچ کی یہ خواہش سمجھ میں تو آسکتی ہے لیکن روس کو فٹ بال کے عالمی کپ کے حتمی مراحل میں تصور کرنے کے لیے بہت زیادہ تخیل کی ضرورت ہے۔  روس کے ساتھ گروپ میں سعودی عرب، مصر اور یوروگوائے ہیں۔ روسی کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ عالمی کپ کی کمزور ترین میزبان ٹیم کہا جا رہا ہے۔

WM-Testspiel Russland gegen Brasilien | Stanislaw Tschertschessow
تصویر: picture-alliance/dpa/L. Perenyi

مارچ میں کھیلے گئے ایک دوستانہ میچ میں برازیل نے روس کو تین صفر سے شکست دی تھی۔ اسی طرح فرانس نے روس کو تین ایک سے ہرایا تھا ۔

 اسٹانسلاو چرچیسوف تاہم اپنی ٹیم میں موجود مسائل کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے تین اہم کھلاڑی کمر کی تکلیف کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ دو دفاعی کھلاڑی فی الحال کھیلنے کے قابل نہیں ہیں جبکہ پچاس بین الاقوامی میچوں میں ملک کی نمائندگی کرنے والے فارورڈ کھلاڑی الیگزانڈر کوکورن مارچ میں کھیلے گئے ایک میچ کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔

 اس کے علاوہ روسی فٹ بال ٹیم میں نئے ابھرتے ہوئے با صلاحیت کھلاڑیوں کی بھی کمی ہے۔ مثال کے طور پر روسی قومی ٹیم کاکوئی بھی کھلاڑی یورپ کے کسی بڑے کلب کے ساتھ نہیں کھیلتا۔ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی عمریں بڑھ چکی ہیں اور نئے کھلاڑیوں پر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ تاہم اب ان شعبوں پر توجہ دی جار رہی ہے۔

picture-alliance/dpa/C. Charisius
تصویر: picture alliance / Christian Charisius/dpa

اس سے قبل1994ء ، 2002ء  اور 2014ء کے عالمی مقابلوں میں روس کی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔ تاہم 2008ء کی یورپی چیمپئن شپ میں روس چوتھے نمبر پر آیا تھا۔

کیا اسٹانسلاو چرچیسوف عالمی کپ کے بعد بھی کوچ کا عہدہ اپنے ہاتھوں میں رکھنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ 1992ء کے بعد سے اب تک نو افراد روسی ٹیم کی کوچنگ کر چکے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر روسی ٹیم پہلے راؤنڈ میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تو یہ حیرت کی بات نہیں ہو گی۔ اس سے قبل 2010ء کے عالمی کپ کے میزبان ملک جنوبی افریقہ کا سفر بھی ابتدائی تین میچوں کے بعد ہی اختتام پذیر ہو گیا تھا۔