1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فوجی ہلاکتیں: فرانس کا افغانستان سے جلد انخلاء زیر غور

21 جنوری 2012

صدر نکولا سارکوزی نے خبردار کیا ہے کہ اپنے چار غیر مسلح فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فرانس افغانستان سے اپنے فوجی انخلاء کے عمل کو تیز رفتار بھی کر سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/13nW3
صدر نکولا سارکوزیتصویر: dapd

افغانستان متعینہ فرانسیسی مسلح دستوں کے چار ارکان اپنے ہی فوجی اڈے پر کھیل کے وقت غیر مسلح حالت میں ایک افغان فوجی کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے 15 فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہو گئے تھے۔ ان میں سے آٹھ شدید زخمی ہیں۔

جمعے کے روز افغانستان میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پیرس میں صدر نکولا سارکوزی نے فرانسیسی دستوں کی طرف سے افغان فورسز کی تربیت کا عمل معطل کر دیا تھا اور ساتھ ہی فرانسیسی سپاہیوں کے افغان مسلح دستوں کے ساتھ مل کر کیے جانے والے تمام فوجی آپریشن بھی روک دیے تھے.

Französische Soldaten in Afghanistan
افغانستان میں فرانسیسی فوجیوں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد ہےتصویر: picture-alliance/dpa

اس کے علاوہ صدر نکولا سارکوزی فوری طور پر فرانسیسی وزیر دفاع جیرارد لونگ کو اس افسوسناک واقعے کی چھان بین کے لیے افغانستان بھی بھیج چکے ہیں۔ فرانسیسی وزیر دفاع نے اس واقعے کو اپنے ہموطن فوجیوں کے قتل کا نام دیا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق فرانسیسی فوجی کھیل سے فارغ ہونے والے تھے اور قطعی طور پر غیر مسلح ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک افغان سپاہی نے اس گروپ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران بہت سے فوجی زخمی ہو گئے جبکہ ان کے کچھ ساتھی حملہ آور پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے۔

پیرس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں نیٹو کی سربراہی میں فرانسیسی دستوں کی طرف سے اس حملے سے پہلے تک زیادہ تر توجہ اس بات پر دی جا رہی تھی کہ افغان دستوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ اپنی عملداری والے علاقے میں طالبان باغیوں کے خلاف کارروائیوں کی قیادت خود کرنے کے بجائے اس عمل میں مقامی دستوں کو شامل کیا جائے۔

تاہم جمعے کے روز ہونے والے حملے کے نتیجے میں فرانسیسی دستوں کی طرف سے افغان دستوں کی تربیت کا پروگرام معطل کیے جانے اور مشترکہ فوجی کارروائیوں کے ختم کیے جانے کے بعد فرانس میں اب یہ عوامی مطالبے اور بھی زور پکڑ جائیں گے کہ پیرس حکومت کو ہندو کش کے علاقے سے اپنے فوجی دستے جلد از جلد واپس بلا لینے چاہیئں۔

جہاں تک فرانسیسی صدر سارکوزی کی ملکی سیاست میں پوزیشن کا تعلق ہے تو اگلے صدارتی انتخابات میں ان کے سوشلسٹ حریف امیدوار فرانسوآ اولاند نے، جنہیں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پہلے سی سارکوزی سے کہیں  زیادہ عوامی تائید حاصل ہے، یہ کہنے میں کوئی دیر نہ کی کہ اگر وہ فرانس کے صدر منتخب ہو گئے تو اس سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ افغانستان متعینہ تمام 3600 فرانسیسی فوجیوں کو وہاں سے واپس بلا لیں گے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شامل شمس

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں