1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عمران خان کا بیان: ملکی سیاست کا درجہ حرارت پھر بڑھ گیا

عبدالستار، اسلام آباد
5 ستمبر 2022

نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے عمران خان کے بیان نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں حدت پیدا کر دی ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس بیان کو افسوسناک قرار دیا جبکہ تحریک انصاف نے عمران خان کے بیان کا دفاع کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4GRbe
Pakistan Premierminister Imran Khan
تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار جنرل غلام مصطفی کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سب سے مقبول رہنما ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی کہی ہوئی ہر بات کو درست سمجھا جائے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اس وقت سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں لیکن جب کوئی سیاسی رہنما بہت مقبول ہوتا ہے یا عوام میں اسے پذیرائی زیادہ ملتی ہے، تو اس کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ لہذا ہر سیاستدان کو سوچ سمجھ کر اپنی زبان سے لفظ ادا کرنے چاہییں اور فوج کو سیاست میں نہیں کھینچنا چاہیے۔‘‘

جنرل غلام مصطفے کے مطابق یہ معاملہ صرف عمران تک نہیں بلکہ تمام سیاستدانوں، چاہے وہ نواز شریف ہوں یا زرداری ہوں، چاہیے کہ وہ فوج کو سیاست سے دور رکھیں اور فوج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹیں۔

Kombobild Oberster Gerichtshof in Islamabad und Qamar Javed Bajwa
فوج کو سیاست سے دور رکھیں اور فوج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹیں، جنرل غلام مصطفیتصویر: Getty Images/AFP/F. Naeem/SS Mirza

عمران خان نے کوئی غلط بات نہیں کی

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ پارٹی کی ایک رہنما مسرت جمشید چیمہ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''خان صاحب نے صرف یہ کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر خالصتاً میرٹ پر ہونا چاہیے اور اور یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ہے اور کرپشن کی ہے، کچھ طاقتور عناصر ان کی پشت پر ہیں۔ میرٹ پر تقرر ہونا فوج کے لیے بھی اچھا ہے اور ملک کے لیے بھی۔‘‘

عمران خان نے فیصل آباد میں ایک خطاب میں کہا تھا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف اپنا من پسند آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ ان دونوں نے پیسے چوری کیے ہیں اور یہ ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی محب وطن فوجی سربراہ آگیا تو وہ ان سے اس بابت پوچھے گا۔ عمران خان کے بقول صرف اس ڈر سے یہ لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے من پسند آرمی چیف  کا تقرر کر سکیں۔

آئی ایس پی آر کا ردعمل

دوسری طرف آرمی کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے بھی اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں فوج کے تعلقات عامہ نے کہا  کہ اس بیان کی وجہ سے فوج میں شدید غم و غصہ ہے۔

 آئی ایس پی آر نے مزید اس حوالے سے کہا کہ فوج کے سپہ سالار کے انتخاب کے عمل کو متنازعہ بنانا ریاست پاکستان اور ادارے کے مفاد میں نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، پاک فوج کی سینیئر قیادت کو متنازعہ بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔

اس بیان کا نوٹس صرف پاکستان آرمی نے ہی نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اس حوالے سے کہا کہ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ افواج پاکستان میں کوئی محب وطن نہیں ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اس کہا کہ عمران خان خود اس بیان کی وضاحت کریں کہ ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا۔

 ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں عارف علوی نے کہا کہا فوج ملک پر جان دیتی ہے۔ آرمی چیف سمیت پوری فوج کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

اختلافات کی تاریخ

واضح رہے کہ عمران خان نے ماضی میں جنرل قمر باجوہ کی متعدد مواقعوں پر تعریف کی اور انہیں جمہوریت پسند قرار دیا ہے۔ جب عمران خان 2018ء میں اقتدار میں آئے تھے تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان میں اور فوج میں بہت قربت ہے اور کئی مواقع پر ان کو اور جنرل باجوہ کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔ تاہم کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ نئے ڈی جیآئی ایس آئی کے تقرر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم عمران خان اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا ہو  گئے تھے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا دعوی تھا کہ عمران خان جنرل فیض حمید کو مزید کچھ عرصہ تک ک ڈی جی آئی ایس آئی رکھنا چاہتے تھے،جب کہ فوج نے ان کا تبادلہ پشاور کر دیا تھا۔

عمران خان کا سیاسی سفر، تحریک عدم اعتماد تک

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ عمران خان پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جن کے فوج کے سربراہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے بلکہ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔

 کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں پر وزیراعظم کے فوج کے سپہ سالار سے اختلافات پیدا ہوئے اور معاملات کشیدگی تک پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب ذوالفقار علی بھٹو نے محسوس کیا کہ جنرل گل حسن کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے، تو انہوں نے نہ صرف جنرل گل حسن کو ان کے عہدے سے ہٹایا بلکہ ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل عبدالرحیم کو ان کے عہدے سے ہٹایا۔ بالکل اسی طرح بے نظیر بھٹو کے شروع میں فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ سے تعلقات اچھے تھے اور وہ انہی سے معاہدہ کر کے اقتدار میں آئی تھیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پہلے ان کے جنرل حمید گل سے اختلافات ہوئے اور بعد میں ان کے جنرل اسلم بیگ بھی تعلقات خراب ہو گئے۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ سول ملٹری تعلقات کے معاملے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کا معاملہ کچھ زیادہ گھمبیر ہے، جن کے کئی جرنیلوں سے تعلقات کشیدہ رہے۔

توصیف احمد خان کے مطابق نواز شریف کے تعلقات نہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے ساتھ بہتر رہے اور نہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ساتھ بہتر رہے، ''انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت کو ہٹایا اور جنرل مشرف کو بھی ان کے عہدے سے معزول کیا۔ ان کے گزشتہ دور حکومت میں ان کے نہ صرف کشیدہ تعلقات جنرل ظہیرالاسلام سے رہے، جو آئی ایس آئی کے چیف تھے، بلکہ ان کے جنرل راحیل شریف سے بھی اچھے تعلقات نہیں تھے۔‘‘