1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب نے ونٹر اولمپک مقابلوں میں کیسے کوالیفائی کیا؟

14 فروری 2022

جس ملک میں سورج کی تپش بارہ مہینے جسم کو کھرچتی ہو، ایسے ملک سے اگر کوئی برفانی میدانوں میں منعقد ہونے والے ونٹر اولمپک مقابلوں کے لیے کوالیفائی کر لے تو عجیب تو لگے گا ہی نا۔ سرمائے اور وژن سے ہی یہ ممکن ہو سکا ہے۔

https://p.dw.com/p/46zlC
Fayik Abdi
تصویر: Ritzau Scanpix/REUTERS

ریگستانی علاقوں سے اٹے سعودی عرب میں موسم سرما میں بھی درجہ حرارت چھبیس سینٹی گریڈ سے کم نہیں ہوتا تو اس خلیجی ریاست میں برفباری کا کوئی بہانہ کیا ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف ونٹر اولمپک مقابلوں میں صرف ایسے کھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے، جو برف پر کھیلے جاتے ہیں۔ ایک تاریخ رہی ہے کہ ان کھیلوں میں ماضی قریب تک صرف ایسے ممالک کے ایتھلیٹس ہی شریک ہوتے تھے، جہاں موسم سرما عروج پر رہتا ہے اور وہاں اگر کھیلنا بھی ہے تو برف سے کنارہ کشی ممکن نہیں۔

سعودی عرب جیسے گرم مرطوب ملک کا کوئی ایتھلیٹ اگر سرمائی اولمپک مقابلوں میں کوالیفائی کر بھی لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ یہ ملک گولڈ میڈل کا متمنی ہے۔ بلکہ یہ معاملہ تو ملک کی شناخت اور دیگر ممالک کے شانہ بشانہ نظر آنے کا ہی ہے۔

اس بار سعودی عرب نے پہلی مرتبہ ونٹر اولمپک مقابلوں کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والے ان مقابلوں میں اس اسلامی ریاست کا صرف ایک ایتھلیٹ ہی شریک ہو سکا، جس نے اتوار کے دن giant slalom اسکی بازی مقابلوں میں حصہ لیا۔

ایسا نہیں کہ مشرق وسطیٰ سے سعودی عرب ایسا پہلا اور واحد ملک ہے، جو ونٹر اولمپک مقابلوں میں شریک ہوا ہے۔ قبل ازیں اردن، ایران، لبنان اور عراق بھی منجمد برف پر ہونے والے ان مقابلوں میں شریک ہو چکے ہیں۔

فائق عابدی کون ہیں؟

بیجنگ اولمپک مقابلوں میں شریک ہونے والے سعودی ایتھلیٹ فائق عابدی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان بین الاقوامی کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر کے ان کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔

Fayik Abdi
فائق عابدی کے مطابق اپنے ملک کی نمائندگی کر کے ان کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہےتصویر: Fayik Abdi/Handout/REUTERS

چوبیس سالہ عابدی نے پہلی مرتبہ اسکی بازی چار برس کی عمر میں کی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ لبنان میں ان کی والدہ نے انہیں اس کھیل سے متعارف کرایا تھا، جس کے بعد یہ کھیل ان کا شوق بن گیا۔ جوانی میں وہ اپنے کھیل کو مزید بہتر کرنے کی خاطر سوئس الپس بھی جاتے رہے۔

سن دو ہزار سولہ میں عابدی پڑھائی کی غرض سے امریکا گئے، جہاں انہوں نے اپنے شوق کو مزید نکھارا اور ایک پروفیشنل اسکی باز بن گئے۔

سعودی ونٹر اولمپک فیڈریشن کا قیام

سعودی عرب نے سن دو ہزار بیس میں سعودی ونٹر اسپورٹس فیڈریشن قائم کی۔ سعودی اولمپک کمیٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے اپنے کوان کو تعبیر کا رنگ دیا اور فیصلہ کیا کہ سن دو ہزار بائیس میں بیجنگ ونٹر اولمپک مقابلوں میں سعودی عرب بھی شریک ہو گا۔

حکومتی فنڈز اور شاہی خاندانوں کے شوق کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ آخر کار سعودی عرب دو سال کی قلیل مدت میں ہی ونٹر اولمپک مقابلوں میں شرکت کا حق دار قرار پایا۔

تاہم اس کے پیچھے دولت کی فراوانی اور ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن کارفرما رہا۔ سعودی حکام نے ونٹر کھیلوں کے شوقین افراد کی ویڈیوز دیکھ کر سات افراد کو منتخب کیا اور انہیں مزید تربیت فراہم کرنے کی خاطر نہ صرف عالمی کوچ مقرر کیے بلکہ ان کو سوئٹزرلینڈ، اٹلی، آسٹریا اور اسپین بھی بھیجا تاکہ وہ اچھے ماحول میں تربیتی پروگرامز میں شرکت کر سکیں۔

سات میں سے صرف ایک سعودی ایتھلیٹ ہی بیجنگ پہنچا

ان سات ایتھلیٹس میں سے صرف تین ہی ونٹر اولمپک مقابلوں میں کوالیفائی کرنے کی خاطر مطلوبہ پوائٹس حاصل کر سکے تاہم چونکہ سعودی عرب نے ان کھیلوں میں شرکت کا مرحلہ تاخیر سے شروع کیا تھا، اس لیے اس کے صرف ایک ایتھلیٹ کو ہی ان مقابلوں میں شریک ہونے کی دعوت ملی۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری ادارے گرانٹ لبرٹی کے مطابق ریاض حکومت نے اپنی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے کی خاطر کھیلوں پر 1.5 بلین امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔

سعودی عرب کا منصوبہ ہے کہ ملک میں ونٹر اسپورٹس کو فروغ دینے کی خاطر انڈور کامپلیکس بنائے جائیں گے، جہاں مصنوعی برف پر نہ صرف پریکٹیس سیشن ممکن ہو سکے گے بلکہ پروفیشنل مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

بیجنگ اولمپک مقابلوں میں فائق عابدی کی شرکت نے 1972ء کے میونخ گرمائی اولمپک مقابلوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ تب جرمنی میں ہونے والے ان کھیلوں میں سعودی عرب کے دستے نے پہلی مرتبہ شرکت کی تھی۔ 

مایا ناز نوجوان خاتون سنو بورڈر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں