1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمنی کا نمیبیا میں 'نسل کشی‘ کا باضابطہ اعتراف

28 مئی 2021

وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ جرمنی نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہریرو اور ناما، جو اب نمیبیا کے نام سے جانا جاتا ہے، کے عوام کو ”بے پناہ مصائب" سے دو چار کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/3u5dc
Namibia, Windhuk I Denkmal zur Erinnerung an den Völkermord von Herero und Nama
تصویر: Jürgen Bätz/dpa/picture alliance

جرمنی نے بیسویں صدی کے اوائل میں اپنی نو آبادیاتی افواج کے ذریعہ ہیریرو اور ناما کے عوام کی 'نسل کشی‘ کے جرائم کا جمعے کے روز باضابطہ اعتراف کرلیا۔ ہیریرو اور ناما کو اب نمیبیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ایک بیان میں کہا کہ جرمنی کی جانب سے 'بے پناہ مصائب‘ پہنچانے کا اعتراف کرنے کے نتیجے میں اخلاقی طور پر اب 1.34 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا جائے گا اور متاثرہ کمیونٹیز یہ فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی کہ اس رقم کا استعمال کس طرح کیا جائے۔ جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ قانونی دعووں کو نمٹانے پر آنے والے اخراجات اس فنڈ سے منہا نہیں کیے جائیں گے۔

ہائیکو ماس نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت کوئی نصف دہائی سے زیادہ عرصے تک چلتی رہی۔ اس بات چیت کا مقصد متاثرین کی یاد میں ایک حقیقی مفاہمت کا مشترکہ راستہ تلاش کرنا تھا۔

اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جرمن نوآبادتی دور میں اور بالخصوص سن 1904سے 1908 کے دوران (نمیبیا میں) ہونے والے مظالم کو کیا نام دیا جائے۔ ہائیکو ماس نے کہا ”اب ہم اورباضابطہ سرکاری طورپر بھی ان واقعات کو آج کے پس منظر میں -- نسل کشی کا نام دے سکتے ہیں۔"

Deutsch-Südwestafrika Holzstich Hereroaufstand 1904/5
تصویر: akg-images/picture alliance

فیصلہ کرنے میں نصف دہائی سے زیادہ لگ گئے

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہریرو اور ناما کمیونیٹیز کے نمائندے بھی بات چیت میں پوری طرح شامل رہے۔ با ت چیت کا سلسلہ پانچ برس سے زیادہ عرصے تک چلا۔

جرمنی نے سن 2015 میں نمیبیا کی حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ اس بات چیت کو 'جرمن نوآبادتی حکومت کا مستقبل رخی تعین قدر‘ کا نام دیا گیاتھا۔

جرمنی کی سابق وزیر ترقیات ہائیداماری ویکزوریک زائل نے سن 2004 میں نمیبیا کے اپنے دورے کے دوران قتل کے ان واقعات کے لیے ملک کی طرف سے پہلی مرتبہ معذرت پیش کی تھی۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ آج کے حالات میں ان واقعات کو نسل کشی کے طورپر دیکھا جا سکتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

امید ہے کہ جون کے اوائل میں نامیبیا کے دارالحکومت ونڈ ہوک میں ہائیکو ماس ایک اعلامیہ پر دستخط کریں گے۔

دونوں ملکوں کی پارلیمان کو اس اعلامیہ کی توثیق کرنی ہوگی۔

اس کے بعد جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائن میئر نمیبیا کی پارلیمان کے سامنے جرمنی کے جرائم کے لیے سرکاری طورپر معذرت کریں گے۔

جرمنی نے نمیبیا میں کیا جرائم کیے تھے؟

سن 1884سے 1915کے درمیان اس وقت کے جنوب مغربی افریقہ پر جرمن بادشاہت کی حکومت تھی۔ اس دور میں جرمنی کی فوج نے متعدد بغاوتوں کو انتہائی بے رحمی سے کچل دیا تھا جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

 انتہائی بے رحمی کے لیے مشہور اس وقت کے جرمن جنرل لوتھر وان تروتھاکوسن 1904میں بغاوت کو کچلنے کے لیے ہیریرو بھیجا گیا تھا۔

مورخین کا کہنا ہے اس وقت ہیریرو کی آبادی 65 ہزار سے 80 ہزار کے درمیان تھی اور ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس ہزار تا بیس ہزار لوگ قتل کردیے گئے۔

Überlebende Herero nach der Flucht durch die Wüste
تصویر: public domain

نمیبیا کا رد عمل

ہیریرو اور ناما لوگوں کے بعض نمائندوں نے اس معاہدے کی نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جرمنی کی طرف سے اپنی امیج بہتر کرنے کا اسٹنٹ اور نمیبیا کی حکومت کو دھوکہ دینے کو کوشش محض ہے۔

بہر حال اعتراضات کرنے والے ان گروپوں یعنی اوواہیریرو ٹریڈیشنل اتھارٹی اور ناما ٹریڈیشنل لیڈرز ایسوسی ایشن کو ہیریرواور ناما کے تمام گروپوں کا نمائندہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔

ان دونوں گروپوں نے جرمنی سے باضابطہ معافی مانگنے اور مالی معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی، ڈی پی اے)

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں