1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انگلینڈ کی کئی مذہبی تنظیمیں بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث

3 ستمبر 2021

انگلینڈ اور ویلز میں سرگرم کئی مذہبی تنظیموں پر بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ان الزامات کا ذکر ہے۔

https://p.dw.com/p/3zrhn
Symbolbild Religion Islam Christentum Religiöse Symbole auf Kirchtürmen und Minaretten in Beirut, libanon
رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث کل اڑتیس تنظیمیں شامل ہیںتصویر: AP

اس انکوائری میں سن 2015 سے لے کر سن 2020 کے دوران متعدد مذہبی تنظیموں کی چھتری تلے رونما ہونے والی سرگرمیوں اور کارروائیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اس دوران یہ واضح ہوا کہ بچوں کے ساتھ اس استحصالی عمل میں ملوث افراد یا تو مذہبی تنظیموں کے ملازم تھے یا پھر ان سے وابستہ افراد تھے اور جنسی استحصال کے تمام واقعات کو رپورٹ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

فون میں ’چائلڈ پروٹیکشن‘ سے نجی زندگی کو خطرہ نہیں، ایپل

مذہبی تنظیمیں

بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث کل اڑتیس تنظیموں کا احوال اس خصوصی رپورٹ میں شامل ہے۔ ان کا تعلق مسیحی مذہبی گروپ ژاہووا وِٹنیس، باپٹیسٹ، میتھوڈسٹ، اسلام، یہودیت، ہندومت، سکھ مت اور نان کنفرمسٹ مسیحی حلقوں سے ہے۔

Libanon Beirut Kirche und Moschee
​​بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث کل اڑتیس تنظیموں کا رپورٹ میں بتایا گیا ہےتصویر: DW

اس انکوائری کو مرتب کرنے کے لیے تفتیش کاروں نے دو ہفتے تک مختلف مذاہب کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا شکار بننے والے افراد و متاثرین سے شواہد جمع کرنے کے لیے بات چیت بھی کی۔شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس عمل میں ملوث دس فیصد افراد ان مذہبی تنظیموں کے ملازمین تھے۔ استحصال کے گیارہ فیصد واقعات افعال تنظیموں کے دفاتر میں ہی رونما ہوئے۔

ہوش اڑا دینے والی رپورٹ

تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد کی یہ استحصالی سرگرمیاں یقینی طور پر طاقت و اختیار کا غلط استعمال تھا۔ ایسے افراد کو مذہبی اکابرین کی سرپرستی اور کسی حد تک حمایت بھی حاصل تھی۔

بچوں کی جنسی تشدد سے حفاظت، یہ اقدامات ضرور کریں!

رپورٹ میں ان استحصالی سرگرمیوں کو انتہائی افسوسناک اور صدماتی قرار دیا گیا کہ ایسی کریہہ کارروائیوں کے لیے انگلینڈ اور ویلز کے علاقوں کو چنا گیا اور ان کا ارتکاب مذہب کے نام پر اور اس کی آڑ میں کیا گیا۔

Libanon Beirut Kirche und Moschee
رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ استحصال کرنے والوں نے مذہبی مقامات کے تقدس کا بھی خیال نہیں کیاتصویر: DW

رپورٹ کے مطابق کئی ایسی تنظیموں کے ضوابط میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے انظباطی کارروائی کرنے کا کوئی حوالہ تک موجود نہیں ہے۔

مذاہب کے پیروکار یقین نہیں کریں گے

اس رپورٹ کے تفتیش کاروں نے بیان کیا کہ اس رپورٹ کے افسوس ناک نتائج پر مذاہب کے پیروکار یقین نہیں کریں گے اور ان مندرجات کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لیے غیر ضروری بہانے تراشیں گے۔

رپورٹ کے مطابق چار بچے، جن کی عمریں نو برس یا اس سے کم تھیں کو قرآن کی تعلیم دینے والے استاد یا ٹیچر نے مسجد کے اندر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس درندہ صفت ٹیچر کو سن 2020 میں سزا بھی سنا دی گئی تھی۔

پولش کیتھولک چرچ میں بچوں کے جنسی استحصال کی سینکڑوں نئی شکایات

ایسے ہی ایک اور واقعے کو بیان کیا گیا اور اس کے مطابق ایک لڑکے کو ایوانجیکل تنظیم کے ایک اہم لیڈر نے تنظیم کے دفتر میں اپنی جنسی بھوک کی بھینٹ چڑھایا۔ یہ تنظیم یونائیٹڈ ریفارمڈ چرچ کی تھی۔

Christen in Dubai
رپورٹ کے مطابق ایک قران پڑھانے والے قاری نے بھی بچوں سے جنسی زیادتی کی تھیتصویر: Getty Images/AFP/K. Sahib

اسی تنظیم کے چند اور دفاتر میں بھی اسی اہم لیڈر نے سات سے دس برس کے بچوں کا جنسی استحصال کیا۔ دہائیوں بعد سن 2017 میں اس جنسی استحصال کرنے والے کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

کلیسائی بچوں کا جنسی استحصال: انکشاف کنندگان کے لیے اعزازات

یہ رپورٹ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اینجلیکن اور کیتھولک چرچ کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کی تفتیش پر عوامی رنج اور غصے میں کمی نہیں آئی ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال کی نئی حتمی رپورٹ اگلے برس پارلیمنٹ میں تادیبی اقدامات کی سفارش کے ساتھ پیش کی جائے گی۔

ع ح ع ا (اے پی)