1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران بلغاريہ کے کوہ پيما ہلاک

5 فروری 2021

پاکستان ميں کے ٹو سر کرنے کی کوششوں کے دوران بلغاريہ سے تعلق رکھنے والے ايک کوہ پيما گر کر ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے کی تصديق ان کی ٹيم کی جانب سے جمعے کو کی گئی۔

https://p.dw.com/p/3oxPW
Winterbesteigung des K2
تصویر: SALTORO_SUMMIT_HANDOUT/dpa/picture alliance

دنيا کے دوسرے بلند ترين پہاڑ کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کے دوران بياليس سالہ اٹاناس اسکاٹوو گر کر ہلاک ہو گئے۔ 'سيون سمٹ ٹريکس‘ نامی کمپنی نے بھی ان کی ہلاکت کی تصديق کر دی ہے۔ يہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کے ٹو سر کرنے کی کوشش ميں ہلاک ہونے والے دوسرے کوہ پيما ہيں۔

کے ٹو سر کرنے کی مہم کی منتظم کمپنی 'سيون سمٹ ٹريکس‘ نے ايک بيان ميں حادثے کی تفصيلات بيان کيں۔ بتايا گيا ہے کہ کوہ پيما بيس کيمپ کی طرف بڑھتے ہوئے رسياں تبديل کرتے وقت گر کر ہلاک ہوئے۔ کمپنی نے وضاحت ميں کہا ہے کہ جس وقت اٹاناس اسکاٹوو گرے، اس وقت امکاناً کوئی غلطی سرزد ہوئی کيونکہ پہاڑ پر نئی رسياں لگائی گئی تھيں۔ بيان ميں اٹاناس اسکاٹوو کو خراج تحسين پيش کيا گيا۔ بلغاريہ کی وزارت خارجہ نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کيا اور رنے والے کوہ پيما کی جرات کو سراہا۔

پاکستان کا ’قاتل پہاڑ‘ ايک اور جان لے گيا

بلوچستان، زامران میں مارخوروں کی پُراسرار ہلاکت

ايلپائن کلب آف پاکستان نے بعد ازاں گر کر ہلاک ہونے والے کوہ پيما کی لاش برآمد کر لی۔ اسے ايک فوجی ہيلی کاپٹر ميں اسکردو کے مقام تک پہنچايا گيا۔

قبل ازيں گزشتہ ماہ کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران ايک ہسپانوی کوہ پيما ہلاک ہو گيا تھا۔ جبکہ جنوری ميں ہی روسی امريکی اليکس گولڈفارب نامی کوہ پيما بروڈ پيک نامی چوٹی سر کرنے کی کوشش ميں مارا گيا تھا۔

چند ہفتوں قبل مموسم سرما ميں کے ٹو سر کر کے نيپالی کوہ پيماوں نے تاريخ رقم کر دی تھی۔ کے ٹو کو خونی پہاڑ بھی کہا جاتا ہے، کيونکہ وہاں کے حالات انتہائی خطرناک ہوتے ہيں۔ چند اوقات وہاں دو سو کلوميٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی ہوائيں اور منفی ساٹھ ڈگری سينٹی گريڈ تک درجہ حرارت ہوتا ہے۔

موسم سرما میں کے۔ ٹو سر کرنے کی کوشش

ع س / ش ج (اے ايف پی)