1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
میڈیاجرمنی

ڈی ڈبلیو تخلیقی مصنوعی ذہانت سے کیسے نمٹ رہا ہے؟

24 ستمبر 2023

مصنوعی ذہانت صحافت کو بدل رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو کی ایڈیٹر انچیف مانویلا کاسپر کلیرج بتاتی ہیں کہ ڈی ڈبلیو مصنوعی ذہانت کو کیسے استعمال کرے گا اور یہ کہ مصنوعی ذہانت صحافیوں کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

https://p.dw.com/p/4WeiX
ڈوئچے ویلے اس سال اپنی 70ویں سالگرہ منا رہا ہے
ڈوئچے ویلے اس سال اپنی 70ویں سالگرہ منا رہا ہےتصویر: Marius Becker/dpa/picture alliance

ڈوئچے ویلے اس سال اپنی 70ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ ایک واضح مشن پر عمل کیا ہے۔ ہم اپنے صارفین کو قابل اعتماد، معیاری اور آزاد صحافت فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلسل ترقی کی ہے، تکنیکی پیش رفت پر فوری رد عمل دکھایا ہے اور اس طرح  ملٹی میڈیا پر انحصار کیا ہے۔

چاہے ریڈیو ہو، ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا، ہم ہر اس پلیٹ فارم پر موجود ہیں، جہاں ہمارے صارفین ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ہمیشہ پلیٹ فارم کو مدنظر رکھے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالا ہے۔ تاہم ہمارے اعلی صحافتی معیار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اب ہمیں ایک اور نئی اور بڑی تبدیلی کا سامنا ہے۔ تخلیقی مصنوعی ذہانت یا 'جنریٹیو اے آئی‘ ایک خلل ڈالنے والی قوت ہے۔ اس تناظر میں بہت سی صنعتیں پہلے ہی نمایاں تبدیلی کا سامنا کر رہی ہیں یا کریں گی اور صحافت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

شفافیت ہمارے لیے اہم ہے اور اسی لیے میں آپ کے ساتھ ڈی ڈبلیو میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں۔

مواد صحافی تیار کرتے ہیں مصنوعی ذہانت نہیں

مصنوعی ذہانت ہم صحافیوں کے کام کی متبادل نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ ڈی ڈبلیو کا مواد پڑھتے، دیکھتے یا سُنتے ہیں، تو آپ یقین کر سکتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہیں۔

ہمارے صحافی معیار کی ضمانت دیتے ہیں۔ تحقیق، شفافیت، احترام، مختلف سماجی آراء اور تنوع کے لیے ہماری وابستگی بغیر کسی عذر کے لاگو ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہمارے کام میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈی ڈبلیو پہلے ہی اے آئی پر مبنی کچھ ایپلی کیشنز استعمال کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہم مصنوعی ذہانت کو تحقیق کے میدان میں بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال میں لا رہے ہیں۔ اسی طرح مضامین کو ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ تاہم ہمارے صحافی مضامین کی کوالٹی کنٹرول کرتے ہیں۔

ایڈیٹر انچیف مانویلا کاسپر کلیرج
ایڈیٹر انچیف مانویلا کاسپر کلیرجتصویر: DW/R. Oberhammer

ہم سرچ انجنوں میں مواد کو بہتر طریقے سے تلاش کرنے میں مدد کے لیے اے آئی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی فوری شناخت میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ ویڈیوز  میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ کیپشنز انہیں بہت زیادہ لوگوں کے لیے قابل رسائی بناتے ہیں۔ مفید ایپلی کیشنز سے ہمارے صحافتی کام کو مدد ملے گی۔

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے صحافی اشاعت سے پہلے ہمیشہ ان ایپلی کیشنز کے معیار کو چیک کریں اور ہم مصنوعی ذہانت کے استعمال کے طریقے کے بارے میں شفاف معلومات فراہم کریں۔

اے آئی چیٹ بوٹس، جیسے کہ 'چیٹ جی پی ٹی‘ معلومات کے قابل اعتماد ذرائع نہیں ہیں۔ ایسے بوٹس نئے خیالات اور تحریک تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن حقیقت پر مبنی معلومات نہیں۔ اے آئی چیٹ بوٹس سنگین غلطیاں کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ایسی شفافیت میسر نہیں ہوتی کہ انہوں نے اپنا مواد کہاں سے حاصل کیا ہے؟

ہم ان نتائج اور حقائق کا اچھی طرح سے جائزہ لیں گے، جو ہم جانتے ہیں کہ چیٹ بوٹ سے آئے ہیں۔ حقائق کی جانچ پڑتال کے لیے ہم اپنے کام میں وسعت لائیں گے۔  مصنوعی ذہانت کے عالمی استعمال کی وجہ سے غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو گا۔ بطور صحافی یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ایسی غلط معلومات کو بے نقاب کریں۔

مصنوعی ذہانت کی تیار کردہ تصاویر

ہمیں اے آئی کے ذریعے تخلیق کردہ 'فوٹو ریئلسٹک امیجز‘ کو شائع کرنے کی بھی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔ جب کبھی ہم نے اے آئی کے ذریعے دوسروں کی تخلیق کردہ تصاویر کا استعمال کیا تو ہم واضح طور پر بتائیں گے کہ یہ تصاویر حقیقی نہیں ہیں۔

لیکن جب ڈیٹا یا خاکوں کی بات آتی ہے تو اس معاملے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

چیلنجز اور مواقع

ہم جانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ یقینی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر غلط معلومات پھیلانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایسے ڈیٹا کو بھی استعمال میں لاتی ہے، جو معاشرے میں موجود تعصبات کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت  والی مصنوعات اور خدمات کا استعمال کرتے وقت ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری کے تحفظ کو بھی بہت سنجیدگی سے لیں گے۔

تاہم اے آئی کا سمجھداری سے استعمال بھی ایک موقع ہو سکتا ہے۔  مصنوعی ذہانت ہمارے صحافیوں کو معیاری کاموں میں مدد دے سکتی ہے اور اس طرح وقت کی بچت بھی سکتی ہے۔ یہ وقت مقامی و علاقائی اسٹوریوں پر تحقیق کرنے اور مختلف معاشرتی نقطہ نظر جاننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ وہ صحافت ہے، جس کی ہمارے صارفین قدر کرتے ہیں اور مشینیں یہ کبھی فراہم نہیں کر سکتیں۔ ڈی ڈبلیو گزشتہ سات دہائیوں کی طرح لوگوں کے لیے اہم موضوعات کے ساتھ ساتھ اچھی طرح سے تحقیق شدہ، خصوصی اور معیاری مواد پیش کرتا رہے گا۔

ا ا / ش ح