1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جیمز فالکنر کا الزام اور پی سی بی کے جوابی الزامات

شمشیر حیدر سوشل میڈیا کے ساتھ
19 فروری 2022

آسٹریلوی کرکٹر جیمز فالکنر نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر معاہدے کی پاسداری نہ کرنے اور معاوضہ ادا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ 7 چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ فالکنر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیل رہے تھے۔

https://p.dw.com/p/47HlZ
ICC Men's T20 World Cup - Super 12 - Semi-Final - Pakistan v Australia
تصویر: Hamad Mohammed/REUTERS

پاکستان سپر لیگ کا ساتواں سیزن اپنے آخری مراحل میں ہے۔ اس مرتبہ پی ایس ایل میں نہ صرف کھلاڑیوں کی دلچسپی زیادہ دکھائی دے رہی ہے بلکہ ماضی کی نسبت دنیا بھر میں اس کے شائقین میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں آسٹریلوی قومی ٹیم کے طویل عرصے بعد دورہ پاکستان بھی سر پر ہے، جس کی وجہ سے کرکٹ کے پاکستانی شائقین بھی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔

اس منظر نامے میں آسٹریلوی کرکٹر جیمز فالکنر نے معاوضے کی ادائگی کے تنازعے کی بنیاد پر ٹویٹ کر کے پاکستان سپر لیگ چھوڑنے کا اعلان کر کے شائقین کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ فالکنر اس سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی طرف سے کھیل رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اپنی فرنچائز کی طرف سے آخری تین میچ نہیں کھیلے تھے۔

جیمز فالکنر نے دو ٹویٹس پر مبنی اپنے بیان میں کہا، ''میں پاکستانی کرکٹ فینز سے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے گزشتہ دو میچوں سے دستبردار ہونا پڑا اور میں پی ایس ایل چھوڑ رہا ہوں۔ کیوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میرے ساتھ کیے گئے معاہدے اور ادائیگیوں کی پاسداری نہیں کی۔ میں تمام وقت یہاں موجود رہا اور وہ مجھ سے جھوٹ بولتے رہے۔‘‘

اپنی دوسری ٹویٹ میں فالکنر نے لکھا، ''مجھے پی ایس ایل چھوڑنے پر تکلیف ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں مدد کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ یہاں کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں اور شائقین زبردست ہیں۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل نے جیسا سلوک میرے ساتھ کیا، وہ ذلت آمیز ہے۔‘‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جیمز فالکنر کے الزامات کے جواب میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے فالکنر پر بھی کئی الزامات عائد کیے ہیں۔
پی سی بی نے اپنی لیگ کی تاریخ اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کا ذکر کرنے کے بعد جیمز فالکنر کا ذکر شروع کیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لکھا، ’’گزشتہ کئی برسوں کے دوران جیمز فالکنر کی بدتمیزیوں کی تاریخ کا ذکر کیے بغیر، جن کی وجہ سے وہ دیگر ٹیموں سے نکالے گئے، (موجودہ واقعے سے متعلق) کچھ ناقابل تردید حقائق کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘
جیمز فالکنر کے انہیں معاوضے کی ادائیگی نہ کیے جانے سے متعلق دعوےکے بارے میں بورڈ نے بتایا کہ دسمبر میں ان کے ایجنٹ نے برطانیہ کا ایک بینک اکاؤنٹ نمبر دیا تھا، جس میں معاہدے کے مطابق 70 فیصد رقم ادا کر دی گئی تھی، اور فالکنر نے اس رقم کی ادائیگی کو تسلیم بھی کیا تھا۔ تاہم جنوری میں ان کے ایجنٹ نے آسٹریلیا کے ایک بینک کا اکاؤنٹ نمبر بھیج دیا تھا۔
پی سی بی کے مطابق اس کے باوجود فالکنر نئے بینک اکاؤنٹ میں دوبارہ رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، جس کا مطلب انہیں دوہری ادائیگی کرنا ہوتا۔
اس کے بعد فالکنر نے جمعے کے روز میچ کھیلنے سے انکار کر دیا اور پی سی بی کے مطابق انہوں نے فالکنر کی مبینہ ’بدتمیزی‘ کے باوجود معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم فالکنر بضد رہے اور وطن واپسی کے انتظامات کا مطالبہ کیا۔


معاملہ صرف یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ آج ہفتے کے روز فالکنر نے ہوٹل میں بھی توڑ پھوڑ کی جس کے بعد ہوٹل انتظامیہ کو رقم ادا کرنے کے بعد ہی انہیں جانے دیا گیا۔ پی سی بی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایئر پورٹ پر بھی جیمز فالکنر امیگریشن حکام سے بدتمیزی کرتے رہے۔
بیان کے آخر میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے لکھا، ’’جیمز فالکنر کی شدید بدتمیزی اور پاکستان کرکٹ اور سپر لیگ کو بدنام کرنے کی کوشش کے بعد پی سی بی اور فرنچائزز نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ انہیں پی ایس ایل کے مستقبل کے مقابلوں میں ڈرافٹ نہیں کیا جائے گا۔‘