1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان: سپریم کورٹ کے احاطے میں تشدد پر وکلاء کی ہڑتال

شکور رحيم، اسلام آباد27 نومبر 2013

سپریم کورٹ کے احاطے میں وکلاء پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف ملک بھر میں آج بدھ کے روز وکلاء نے ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ وکلاء نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1APZc
تصویر: picture-alliance/dpa

اس ہڑتال کی کال ملک میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کی جانب سے دی گئی تھی جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور سندھ کے بیشتر شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جبکہ ملک کے ديگر شہروں میں بھی جزوی ہڑتال کی گئی۔

بدھ کے روز پاکستان بار کونسل کے وائس چيئرمین قلب حسن، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضی اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں زیر علاج زخمی وکلاء کی عیادت کی۔ وکلاء رہنماؤں نے تشدد کے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

چيف جسٹس افتخار محمد چوہدری
چيف جسٹس افتخار محمد چوہدریتصویر: picture-alliance/ dpa

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضی نے اسلام آباد میں ذرا ئع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تشدد سے 28 وکلاء زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مطالبات کے ليے پر امن احتجاج کرنا وکلاء کا حق ہے لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’تیس سال مجھے بھی پریکٹس کرتے ہوگئے ہیں۔ ميں نے اس عرصے میں ایسا نہیں دیکھا اور اس سے پہلے بھی اس بارے میں نہیں سنا کہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر وکیلوں پر فائرنگ کی جائے اور آنسو گیس استعمال کی جائے یا لاٹھی چارج کیا جائے۔ یہ پاکستان کے 65 سالوں میں ہم نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔"

وکلاء اور پولیس کے درمیان یہ جھڑپ منگل کی شام اس وقت ہوئی جب پنجاب کے پانچ اضلاع سے آئے ہوئے وکلاء نے سپریم کورٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ وکلا ء گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، سرگودھا اور فیصل آباد میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ بنانے کے ليےسپریم کورٹ کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔ وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں اسسٹنٹ کمشنر محمد علی اور پولیس کے ایک ڈی ایس پی سمیت دس پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اس واقعے کے بعد چند وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا بھی دیا لیکن پھر رات گئے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں انہوں نے دھرنا ختم کر دیا تھا۔

ادھر بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سپریم کورٹ پر حملہ کر نے والے وکلاء کے پیچھے ایک سیاسی جماعت کا ہاتھ ہے، جس کی قیادت کو دوران اقتدار اور بعد میں بھی سپریم کورٹ، خصوصا چیف جسٹس کے فیصلوں کی وجہ سے حزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ کے ایک وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ کچھ قوتیں ریٹائرمنٹ سے محض چند دن قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہ رہی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرے ہوئے انہوں نے کہا، ’’کل جو ہوا یہ بہت توہین آميز ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے وکیلوں کا جلسہ نہیں تھا۔ بلکہ مخصوص پارٹیوں اور لوگوں کا تھا۔ اس زون میں (ریڈ زون) جہاں بس نہیں آسکتی، وہاں منظم طریقے سے اتنے لوگوں کو وہاں لایا گیا۔ یہ کسی عام آدمی کا کام نہیں ہے۔‘‘

چیف جسٹس آف پاکستان، جو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں، نے وکلاء اور پولیس کے درمیان اس جھڑپ سے متعلق سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔