1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لاہور میں احتجاجی سرگرمیاں اور ’درود و سلام‘ کی محفلیں

تنویر شہزاد،لاہور12 اگست 2014

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں یوم آزادی کی سرگرمیاں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔ ہر طرف احتجاجی رنگ دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس بھی میدان میں ہے اور حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی۔

https://p.dw.com/p/1Ct40
تصویر: Arif Ali/AFP/Getty Images

لاہور پر اس وقت خوف اور بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر جا بجا پولیس اہلکاروں کا گشت دکھائی دے رہا ہے۔ داخلی اور خارجی راستے رکاوٹوں سے بھرے ہوئے ہیں اور شہرکے کئی علاقوں میں کنٹینروں کا راج ہے۔ ماڈل ٹاون جانے والے راستے مکمل طور پر سیل کر دیئے گئے ہیں جبکہ گھروں اور دفتروں میں ہونے والی باتوں اور ذرائع ابلاغ سے ملنے والی خبروں پر لانگ مارچ کے اثرات بہت نمایاں ہیں۔ ایم ایم عالم روڈ پر موجود ایک چینی ریستوران کے ایک ویٹرنے بتایا کہ اس ویک اینڈ پر پچیس لوگوں کے لیے کھانے کی بکنگ تھی لیکن عین وقت پر میزبانوں نے یہ کہ کر بکنگ منسوخ کروا دی کہ گاڑیوں میں پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں پہنچ سکتے، ’’کھانے کے شوقین لوگوں کے شہر میں ایسے واقعات پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔‘‘

ادھر زمان پارک کے علاقے میں عمران خان کے گھر کے ارد گرد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ کراچی کے عارف علوی، مظفرگڑھ کے جمشید دستی، اسلام آباد کی شیریں مزاری، راوالپنڈی کے شیخ رشید، ملتان کے شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی اور جہانگیر ترین سب لاہور میں موجود ہیں۔ یہاں کبھی میڈیا ٹاک شروع ہوجاتی ہے اور کبھی نوجوانوں کا رقص شروع ہو جاتا ہے، کبھی نعرے بلند ہوتے ہیں اور کبھی ترانے سنائی دینے لگتے ہیں۔

Auseinandersetzungen zwischen Opposition und Regierunsanhängern in Lahore, Pakistan
تصویر: Reuters

ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر کے باہر بھی لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے، خواتین کی بہت بڑی تعداد وہاں ’درود و سلام‘ کی محفلیں سجائے بیٹھی ہیں۔ طاہرالقادری سے ملنے کے لیے آنے والے وفود کا سلسلہ جاری ہے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے کھانے اور ادویات پہنچائی جا رہی ہیں۔ لاہور کے امیر ترین لوگوں کی اس بستی کے مکین بھی آج کل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

دریں اثنا اپنے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے ان پر لگائے جانے والے حکومتی الزامات کی تردید کی ہے۔ انھوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں کو دعوت دی کہ وہ خود آکران کے گھر، آفس اور کارکنوں کی تلاشی لیں، اگر انہیں وہاں سے ناجائز اسلحے یا گولہ بارود کے ذخائر ملے تو وہ انقلاب مارچ کی کال واپس لے کر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں گے۔

تیسری طرف لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے کنٹرول روم میں پنجاب حکومت کے اعلیٰ افسران اور مسلم لیگ کے ارکا ن اسمبلی سر جوڑے بیٹھے لمحہ لمحہ بدلتی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے آج کہا ہے کہ مارچ اور نام نہاد انقلاب کی آڑ میں فساد پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی سیاست کرنے والے ملک کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں۔

منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ہراساں کرنے یا انہیں گرفتارکرنے سے روک دیا ہے۔ اس موقعے پر انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے بعض لوگوں کو نقص امن کے خطرے کے باعث نظر بند کیا گیا ہے۔

کشیدگی کی اس فضا میں مصالحت کی کوششوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج ا لحق نے عمران خان اور شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ حالات کی بہتری کے بارے میں اب بھی پر امید ہیں کہ کوئی نہ کوئی باعزت راستہ نکل آئے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے منگل کی شام ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما رحیق عباسی کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے مارشل لا کی حمایت نہ کرنے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عدم تشدد کے ذریعے حقیقی جمہوریت بحال کرنا چاہتے ہیں۔