فرانس کا ایران کے خلاف سخت احتجاج
16 نومبر 2010فرانسیسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے، ’تہران میں فرانس کے سفیر کی رہائش گاہ کے باہر 14 نومبر کو سنجیدہ نوعیت کے واقعات پیش آئے۔‘ بیان میں کہا گیا، ’نامعلوم سکیورٹی اہلکاروں نے سفارت خانے کا داخلی راستہ بند کر دیا۔ وہ بعدازاں فرانسیسی سفیر کے مہمانوں کو گرفتار کرنے کے لیے آگے بڑھے جبکہ مہمانوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اہلکاروں پر تشدد کی ناقابل قبول کارروائیوں میں بھی ملوث رہے۔‘
فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق اس حوالے سے شکایت اور احتجاج کے لئے منگل کو پیرس میں تعینات ایرانی سفیر کو طلب کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ سفارتی تعلقات پر1961ء کے ویانا کنونشن کی انتہائی سنجیدہ خلاف ورزی ہے اور ایرانی سفیر کے سامنے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
پیرس حکومت کے ایک عہدے دار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے تہران میں تعینات فرانسیسی سفیر بیرنارڈ پولیٹی کی رہائش گاہ سے بعض مہمانوں کو گرفتار بھی کیا، جو وہاں شامِ موسیقی میں شرکت کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اس عہدے دار نے کہا، ’سفارت خانے کے ایک اہلکار پر تشدد بھی کیا گیا۔‘
خیال رہے کہ حالیہ دِنوں میں فرانس اور ایران کے مابین تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ رواں برس جون میں فرانس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور متنازعہ جوہری پروگرام پر ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت کی تھی۔
گزشتہ برس جولائی میں ایران میں فرانس کی ماہرِ تعلیم Clotilde Reissکو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان پر 2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہروں میں شرکت کا الزام تھا۔ تاہم رواں برس مئی میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
فرانس نے رواں برس فروری میں یہ بھی کہا تھا کہ تہران میں حکومت نواز مظاہرین نے فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سفارت خانوں پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔
فرانس سکینہ محمدی اشتیانی کی سزائے موت کے ایرانی فیصلے کے خلاف بھی تہران حکام کے خلاف عالمی احتجاج میں شامل ہے۔ اس ایرانی خاتون کے لئے زنا بالرضا کے الزام پر سنگساری حکم سنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ: ندیم گِل
ادارت: افسراعوان