1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سانحہ بھوپال کے تیس برس مکمل، پھر بھی زخم مندمل نہ ہوئے

عاطف بلوچ2 دسمبر 2014

رام پیاری بائی کا اصرار ہے کہ وہ بھوپال سانحے میں متاثر ہونے والے افراد کی جنگ جاری رکھے گی۔ آج سے ٹھیک تیس برس قبل رونما ہونے والے اس سانحے کا شکار بننے والی یہ خاتون اپنے ارادوں میں پرعزم معلوم ہوتی ہے۔

https://p.dw.com/p/1Dxw7
تصویر: DW/L.Knüppel/N. Scherschun

کانوں سے تقریباً بہری ، کینسر اور السر میں مبتلا نوے سالہ رام پیاری بائی کا اصرار ہے کہ وہ بھوپال سانحے میں متاثر ہونے والے افراد کی جنگ جاری رکھے گی۔ صحت کی خستہ حالی کے باوجود آج سے ٹھیک تیس برس قبل رونما ہونے والے اس سانحے کا شکار بننے والی یہ خاتون اپنے ارادوں میں پرعزم معلوم ہوتی ہے۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں 1984 میں رونما ہونے والے دنیا کے بدترین صنعتی حادثے کو آج دو دسمبر کو ٹھیک تیس سال ہو گئے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے بھارت میں متعدد یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دو دسمبر 1984ء کی رات کو بھوپال میں یونین کاربائیڈ کے ایک کارخانے کی ایک اسٹوریج ٹینکی میں شگاف پڑ جانے سے انتہائی زہریلی گیسیں خارج ہونا شروع ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں آس پاس کے رہائشی علاقوں میں بسنے والے تقریباً ساڑھے تین ہزار انسان فوری طور پر ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس حادثے کے اثرات کے سبب 1994ء تک اموات کی تعداد پچیس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ تاہم متاثرین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کے اندازے اس سے دگنے ہیں۔

30 Jahre nach der Chemiekatastrophe von Bhopal, Indien
متاثرہ علاقے میں پینے کا پانی بھی آلودہ ہےتصویر: DW/K, Keppner

اگرچہ بھوپال کے اس سانحے کو اب طویل عرصہ بیت چکا ہے تاہم اس حادثے میں متاثر ہونے والے افراد اور ان کے لیے کام کرنے والےانسانی حقوق کے کارکن ابھی بھی بےچین نظر آتے ہیں۔ رام پیاری بائی بھی اسی حادثے کا شکار بنی تھی۔ اس حادثے کے مقام کے قریب ہی اپنے مکان میں اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ انصاف کی خاطر اپنی جنگ جاری رکھے گی، ’’میں اپنے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھوں گی، چاہے مجھے اپنی کمزوری کے باعث زمین پر رینگنا ہی کیوں نہ پڑے، میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔‘‘

جب بھوپال میں تیس برس قبل یونین کاربائیڈ کارخانے کے ایک پائپ سے زہریلا مادہ رسنا شروع ہوا تھا، تو اس وقت رام پیاری اس کارخانے کے بالکل ساتھ ہی رہتی تھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں یہ خاتون بھی زخمی ہو گئی تھی۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات جب تیس ہزار ٹن methyl isocyanate نامی زہریلے مادے نے اس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا تو رام پیاری کا بیٹا بھی شدید زخمی ہو گیا تھا جبکہ اس کی بہو اسی رات ہلاک ہو گئی تھی۔ اس وقت وہ سات ماہ کی حاملہ بھی تھی۔

غم میں مبتلا رام پیاری نے اس حادثے کے بعد ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کو زر تلافی کی ادائیگی کے لیے ایک مہم شروع کر دی تھی۔ وہ بتاتی ہے کہ اتنے طویل عرصے میں اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے اسے اور اس کے دیگر ساتھیوں کو پولیس نے نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

تاہم ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود اس خاتون کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ تاہم حالیہ دنوں میں یونین کاربائیڈ کارخانے کے سابق مالک کی موت کے بعد اس سانحے کے متاثرین کے لیے مزید زرتلافی کی کوششیں نامکمل رہنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔

30 Jahre nach der Chemiekatastrophe von Bhopal, Indien
بھوپال سانحہ دنیا بھر میں بدترین صنعتی حادثہ تصور کیا جاتا ہےتصویر: DW/K, Keppner

اس حادثے کے بعد اگرچہ اس پلانٹ کو بند کر دیا گیا تھا لیکن گیس لیکیج کے نتیجے میں یتیم ہو جانے والے شاہد نور کو ابھی حال ہی میں اجازت دی گئی کہ وہ اس سابقہ کارخانے کا دورہ کر سکے۔ انتالیس سالہ نور نے اس حادثے کو یاد کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا، ’’ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کسی نے سو مرچیں مسل کر میری آنکھوں میں ڈال دی ہوں۔‘‘ نور نے افسردہ انداز میں بتایا، ’’میری ماں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا لیکن اس رات کے بعد میں نے انہیں دوبارہ نہیں دیکھا۔ وہ انتقال کر گئی تھیں۔ اس وقت میں اپنے والد کے ساتھ ہی تھا، جب وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔‘‘

1989ء میں یونین کاربائیڈ اور حکومت کے مابین طے پانے والی ایک ڈیل کے تحت نور اور رام پیاری دونوں کو ہھی زرتلافی کے طور پر پچیس پچیس ہزار روپے دیے گئے تھے۔ اب یونین کاربائیڈ کے تمام حقوق امریکا کی Dow کیمیکلز نے خرید لیے ہیں۔ اس کمپنی نے اس حادثے میں متاثر ہونے والے افراد کو مجموعی طور پر 470 ملین ڈالر ادا کیے اور Dow کیمیکلز کا اصرار ہے کہ اُس وقت قانونی تقاضوں کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو زرتلافی دے دیا گیا تھا۔

تاہم متاثرین کے لیے مہم چلانے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ ازالہ صرف پانچ ہزار متاثرہ افراد کو ملا تھا۔ 2012ء میں حکومت نے اس کمپنی کے خلاف ایک تازہ کارروائی شروع کی کہ متاثرہ افراد کو مزید زرتلافی ادا کیا جائے لیکن بھارت میں عدالتی پیچیدگیوں اور سست رفتاری کی وجہ سے اس معاملے میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔