1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کے لیے مودی حکومت ذمہ دار‘

جاوید اختر، نئی دہلی
4 مارچ 2020

ايک غير معمولی پيش رفت ميں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ہائی کمشنر نے بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چيلنج کر ديا ہے۔

https://p.dw.com/p/3YpqI
Indien Christen protestieren gegen Einbürgerungsgesetz
تصویر: Getty Images/AFP/D. Sarkar

اس پيش رفت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن کانگریس پارٹی کی جانب سے کہا گيا ہے کہ ’یہ درست ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اقو ام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے عرضی دائر کیا جانا بھارت کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے لیکن اس افسوس ناک صورت حال کے لیے مودی حکومت خود ذمہ دار ہے‘۔

بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے اپنی ايک ٹوئيٹ میں لکھا، ”بلا شبہ اقوام متحدہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست ہمارے اندرونی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے۔ لیکن اس افسوس ناک صورتحال کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ بھارت سرکار نے ایک ایسا قانون بنا کر، جو انسانی حقوق کے عالمی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، خود ہی دوسروں کے لیے مداخلت کا دروازہ کھول دیا ہے۔“ بھارت کے سابق وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے بھی اس پيش رفت کو ’بھارت کی سفارتی تاریخ میں ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ‘ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (یو این ایچ آر سی) مچل بیچلیٹ جیریا نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف سپریم کورٹ میں گزشتہ روز ایک درخواست دائر کرائی۔ یہ درخواست بھارت میں سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے بعد دائر کرائی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں تقریباً تین درجن افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں جب کہ سینکڑوں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حالات اس وقت انتہائی خراب ہوئے جب سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف تيئس فروری کو بھارتی دارالحکومت میں بد ترین فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے، جن میں تقریباً پچاس افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین سو سے زیادہ زخمی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

Indien Oberster Gerichtshof in Neu Dehli
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/N. Kachroo

یو این ایچ آر سی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے شہریت ترمیمی قانون پر اعتراضات درج کرائے ہیں۔ بچلیٹ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے ضابطے کے تحت یہ درخواست دائر کر رہی ہیں۔ انہوں نے سی اے اے کے دائرے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون بھارت آنے والوں کے لیے صرف مذہبی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون چند مخصوص نسلی مذہبی گروپ تک محدود ہے جبکہ اقوام متحدہ کی کنونشنوں اور اعلامیوں کے مطابق تمام شہری اور تارکین وطن، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، کے ليے برابر حقوق ہونے چاہيیں۔ بھارت بھی اس کنونشن پر عمل کرنے کا پابند ہے۔

بھارت نے اقوام متحدہ کے اس اقدام پر نکتہ چینی کی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا، ’’شہریت ترميمی قانون بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ قانون سازی کے حوالے سے پارلیمان کی خود مختاری کے حق سے متعلق ہے۔“ رویش کمار کا مزید کہنا تھا، ”بھارتی حکومت واضح طور پر یقین رکھتی ہے کہ کسی بھی بیرونی فریق کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بھارت کی خود مختاری سے متعلق معاملے پر کارروائی کا مطالبہ کرے۔"

واضح رہے کہ گزشتہ برس گيارہ دسمبر کو ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی پارلیمان سے شہریت ترمیمی قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔