جرمنی: ’اسلام کانفرنس‘ ایک تعارف
6 مئی 2013جرمنی میں اسلام کے موضوع پر ہونے والا یہ اجلاس ریاست اور مسلمانوں کے مابین مکالمت کا مرکزی ذریعہ ہے۔ ’اسلام کانفرنس‘ کا سلسلہ سابق جرمن وزیر داخلہ وولفگانگ شوئبلے کے ایماء پر 2006ء میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت برلن حکومت اور مذہبی انجمنوں کے مابین تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔ اب تک ہونے والے اجلاسوں میں اسکولوں میں بچوں کو مسیحیت کے ساتھ ساتھ اسلامیات کی تعلیم دینے کے موضوع کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ساتھ ہی اس دوران ریاست اور مذہب کے موجود دیگر مسائل کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مساجد کی تعمیر اور اسلامی انتہا پسندی سے جرمنی کو لاحق خطرات جیسے موضوعات پر بھی بات چیت ہوتی رہی ہے۔
وولفگانگ شوئبلے کے جانشین تھوماس ڈے میزیئر نے اجلاس میں سلامتی کے موضوع کو سب سے زیادہ اہمیت دی تھی، جسے مسلم انجمنوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سات مئی کو ہونے والی اسلام کانفرنس میں بھی امید ہے کہ موجودہ وزیر داخلہ ہنس پیٹر فریڈرش سلامتی اور دہشت گردی پر بات کرنے کو ہی فوقیت دیں گے۔
جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کے لیے اسلامیات کی تعلیم اب روز مرہ کا معمول ہے۔ لیکن مسلمانوں کے علیحدہ قبرستان اور اسلامی تہواروں کے روز چھٹی کا معاملہ ابھی تک طے نہیں ہو پایا ہے۔ ہیمبرگ اور بریمن کی صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں کہ مسلم تنظیموں کے ساتھ سرکاری سطح پر اس تناظر میں معاہدے کیے جائیں لیکن دیگر جرمن ریاستوں میں ابھی اس موضوع پر بات شروع بھی نہیں ہوئی۔
جرمن آبادی کا تقریباً پانچ فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کی نصف سے زیادہ آبادی مسیحیت کے دونوں فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم ہے۔ تاریخ دان تھوماس گروس بوئلٹنگ کہتے ہیں کہ آبادی میں اضافے کے باوجود مسلمان سیاسی سطح پر فعال نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں جرمنی میں کلیسا اور ریاست کے مابین قریبی تعلق اس کی وجہ ہے۔ ان کے بقول کلیسا کے لیے ٹیکس، اسکولوں میں مسیحیت کی تعلیم اور نشریاتی اداروں کی کمیٹیوں میں کلیسا کے نمائندوں کی موجودگی اس تعلق کو واضح کرتی ہے۔
مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ ایمن مازیک کے خیال میں اسلام کانفرنس کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برابری کی بنیاد پر کیے جانے والے مذاکرات مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور مسلم تنظیم سے وابستہ علی کیزلکایا کا خیال ہے کہ اس اجلاس کی سمت صحیح نہیں ہے۔ ان کے بقول اس اجلاس کی وجہ سے سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور بد اعتمادی کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے ان دونوں نے برلن میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
S.Dege / ai / aa