1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جاپان کا نیا سکیورٹی پلان، توجہ متنازعہ جزائر پر

عصمت جبیں17 دسمبر 2013

جاپانی کابینہ نے آج منگل کو قومی سلامتی کے شعبے میں ایک نئی سکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی جس میں چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے باعث زیادہ توجہ بہتر دفاع پر دی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/1AavX
تصویر: Reuters

خبر ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق نئی دفاعی پالیسی کے تحت جاپان کی سمندر پار فوجوں کے لیے زیادہ بہتر سکیورٹی کردار ممکن ہو جائے گا۔ ساتھ ہی اسلحے کی برآمدات کے لیے نئے رہنما ضابطے بھی وضع کر دیے گئے ہیں، جو ٹوکیو کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Japan Walfang Walfangschiff Yushin Maru
نیا یونٹ دور دراز سمندری علاقوں میں موجود جاپانی جزائر کی حفاظت کو یقینی بنانے کی صلاحیت کا حامل ہو گاتصویر: picture-alliance/dpa

ٹوکیو حکومت کی اس نئی دفاعی پالیسی میں اتحادی ملک امریکا کے ساتھ اور بھی قریبی سکیورٹی تعلقات پر زور دیا گیا ہے جس کا سبب خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ پر پائی جانے والی تشویش ہے۔

جاپانی وزیر اعظم شِنزو آبے نے ملکی فوج پر عائد چند پابندیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس پر کئی سیاسی حلقوں نے ان پر تنقید کی۔ لیکن کئی دیگر سیاسی حلقوں نے اس وجہ سے وزیر اعظم کی سوچ کی حمایت کی کہ وہ بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خاص کر بیجنگ کے ساتھ کھچاؤ کی وجہ سے خطرات کو محسوس کرتے ہیں۔

ٹوکیو حکومت کی نئی سکیورٹی اسٹریٹیجی حال ہی میں قائم کی گئی نیشنل سکیورٹی کونسل کی طرف سے خارجہ سیاست اور دفاع کے شعبوں میں فیصلوں کے لیے پالیسی بنیادیں بھی فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی جاپانی کابینہ نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری بھی دے دی ہے جس کے تحت ملکی فوج کا ایک ایسا یونٹ قائم کیا جائے گا جو زمینی اور سمندری دونوں طرح کے علاقوں میں فرائض انجام دے سکے گا۔ یہ نیا یونٹ دور دراز سمندری علاقوں میں موجود جاپانی جزائر کی حفاظت کو یقینی بنانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔

Karte Japan Englisch

اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کی وسیع و عریض سمندری حدود اور ان میں پیش آنے والے واقعات گزشتہ کچھ عرصے سے ٹوکیو کے لیے سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث رہے ہیں۔

خاص کر بحیرہء مشرقی چین میں واقع وہ سینکاکو جزائر جن کا انتظام تو جاپان کے پاس ہے لیکن جن کی ملکیت کے دعوے چین اور تائیوان دونوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ چین ان جزائر کو متنازعہ قرار دے کر انہیں دیاؤ یو Diaoyoاور تائیوان انہیں تیاؤیو تائی Tiaoyutiaکا نام دیتا ہے۔

نئی جاپانی سکیورٹی پالیسی کے نتیجے میں ٹوکیو حکومت کے لیے ممکن ہو جائے گا کہ وہ امریکا سے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون طیارے اور میزائل شکن نظام خرید سکے اور ایسی فوجی گاڑیاں بھی حاصل کر سکے جو زمینی اور سمندری دونوں علاقوں میں استعمال ہو سکیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئی قومی سکیورٹی پالیسی میں جاپانی کابینہ نے اگلے پانچ سال کے دوران دفاعی شعبے میں ممجموعی اخراجات میں پانچ فیصد اضافے کی منظوری بھی دے دی ہے۔