1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’میرا جسم تو راکھین ہی میں رہ گیا‘: روہنگیا خاتون کی کہانی

اینس پوہل (م۔ م)
19 اکتوبر 2018

اپنی جان بچانے کے لیے میانمار کی ریاست راکھین سے ہجرت سے پہلے فاطمہ کو کئی مرتبہ ریپ کیا گیا تھا۔ اب بنگلہ دیش میں ایک مہاجر کیمپ میں مقیم یہ روہنگیا مسلم خاتون کہتی ہے، ’’اپنا جسم تو میں راکھین ہی میں چھوڑ آئی تھی۔‘‘

https://p.dw.com/p/36r7A
تصویر: DW/I. Pohl

فاطمہ کبھی روہنگیا مسلم اقلیتی برادری کے لاکھوں دیگر افراد کے ساتھ میانمار کی ریاست راکھین میں رہتی تھی۔ اب اس کا گھر ایک ایسا خیمہ ہے، جو بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی ایک عارضی بستی کا حصہ ہے۔ اس کے ماضی اور حال میں فرق صرف راکھین اور بنگلہ دیش میں ہونے یا اپنے گھر میں اور بے گھر ہونے کا ہی نہیں بلکہ کئی مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے اس المیے کا بھی ہے، جس کے بعد سے وہ کہتی ہے کہ اس کی شخصیت ٹکڑے ٹکڑے اور جسم اور روح جیسے علیحدہ علیحدہ ہیں۔

بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں جہاں لاکھوں روہنگیا مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں، فاطمہ سے ملاقات کے لیے سفر کے دوران منظر نامے پر دور دور تک خیموں پر لگی پلاسٹک کی سفید شیٹیں نظر آ رہی تھیں اور ان پر ہونے والی تیز بارش کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ یہ ایک ایسا علاقہ تھا، جہاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر گونجتی مؤذن کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی اور کیچڑ سے بھری مختلف چھوٹی چھوٹی وادیوں میں روہنگیا مہاجرین نظر آ رہے تھے۔

مسلم اقلیت

میانمار سے ایک مسلم نسلی اقلیت کے طور پر روہنگیا باشندوں کی طرف سے اپنی جانیں بچانے کے لیے ہجرت کا سلسلہ پرانا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ چند برس پہلے شروع ہوا اور گزشتہ برس اگست میں اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔ تب صرف چند ماہ کے اندر اندر سات لاکھ سے زائد مسلم مرد اور خواتین جان لیوا تشدد سے بچنے کی کوششوں میں بے گھر ہو گئے تھے۔ ان میں سے نصف ملین سے زائد بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ یہ بات واضح نہیں کہ تب کتنے روہنگیا مسلمان مارے گئے تھے۔ لیکن اس میں بھی کسی کو کوئی شبہ نہیں کہ یہ کم ازکم جنوبی ایشیا کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی تھی۔

Bangladesch Rohingya Flüchtlings Camp
بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار میں روہنگیا مسلم مہاجرین کا ایک کیمپتصویر: DW/I. Pohl

دو کم سن بیٹے

فاطمہ کی عمر صرف بیس برس ہے۔ اس کے دو کم سن بیٹے بھی ہیں۔ میانمار سے فرار ہونے سے پہلے اس نوجوان روہنگیا خاتون کو کئی بار ریپ کیا گیا۔ شاید تیس یا چالیس مرتبہ۔ صرف ایک ہی رات میں۔ اسے یاد بھی نہیں کہ اس پر یہ پہاڑ کتنی مرتبہ ٹوٹا تھا۔ یہ بھی نہیں کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے حملہ آور مرد کتنے تھے۔

فاطمہ جب اس بارے میں بہت ہلکی آواز میں بات کر رہی تھی، تو اس کی نظریں جیسے خیمے کے اندر زمین کی طرف دیکھتے ہوئے لیکن کہیں درمیان میں کسی جگہ یا چیز پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اگر کسی سننے والے یا سننے والی کی نظریں بولنے والی کی نظروں سے مل بھی جاتیں، تو فاطمہ کی آنکھوں میں خالی پن کے سوا کچھ نظر نہ آتا۔ جیسے کسی نے آنکھوں کے اندر سے ہی کوئی دروازہ بند کر دیا ہو، تاکہ کسی کو بھی کچھ نظر نہ آئے۔ اسی لمحے فاطمہ بولی، ’’میں اپنا جسم اپنے پیچھے راکھین ہی میں چھوڑ آئی ہوں۔‘‘

فاطمہ کے شوہر علی کی عمر فاطمہ کی اپنی عمر سے صرف دو سال زیادہ ہے۔ اپنی جھونپڑی میں پلاسٹک کے ایک چوکور سٹول پر اپنی بیوی کے پاس ہی بیٹھے اس بائیس سالہ روہنگیا مہاجر نے بتایا، ’’جب ہمارے گاؤں پر میانمار کی قومی سطح پر بودھ اکثریتی آبادی سے تعلق رکھنے والے مقامی ملیشیا گروپوں کے ارکان نے حملے شروع کر دیے، تو ان کے ہاتھوں یقینی طور پر قتل ہو جانے سے بچنے کے لیے بہت سے مقامی مردوں نے گاؤں سے رخصتی کا فیصلہ کیا۔ زیادہ تر اپنے اپنے اہل خانہ کی منت سماجت پر۔ مجھے بھی اپنی بیوی، چودہ ماہ کے بڑے بیٹے اور ایک چھوٹے سے شیر خوار بیٹے سے یہ سوچ کر رخصت ہونا پڑا کہ میری وجہ سے ان کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں۔‘‘

Symbolbild Indien Bangladesh Grenze
ان لاکھوں مہاجرین کی اکثریت میانمار سے پیدل ہی بنگلہ دیش پہنچی تھیتصویر: picture-alliance/NurPhoto/ R. Asad

پھر اس کے بعد زیادہ راتیں نہیں گزری تھیں کہ بودھ ملیشیا کارکن اس روہنگیا جوڑے کے گاؤں تک بھی پہنچ گئے۔ وہ فاطمہ کو قریبی جنگل میں لے گئے تھے۔ پھر ان حملہ آوروں میں سے ہر ایک بار بار اس نوجوان روہنگیا مسلم خاتون پر جھپٹتا رہا۔ اس کی منتیں اور سسکیاں کسی نے نہ سنیں، جس نے سنیں بھی، اس پر بھی حیوانیت سوار تھی۔

ایسا صرف فاطمہ کے ساتھ ہی نہیں ہوا۔بہت سی عورتیں تھیں، نوجوان بھی اور درمیانی عمر کی بھی۔ ان کو بچا سکنے والے ان کے شوہر اور بھائی یا گھر کے دیگر مرد یا تو مارے جا چکے تھے یا پھر اپنے ہی گھر والوں کی منت سماجت کے بعد اپنی جانیں بچانے کے لیے پہلے ہی اپنے اپنے دیہات سے فرار ہو چکے تھے۔

اس کے بعد فاطمہ کسی طرح جنگل سے واپس اپنے گاؤں پہنچی اور اپنے سسرال کے بچے کھچے ارکان کے ساتھ ایک سرحدی دریا پار کر کے میانمار سے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش پہنچ گئی۔

فاطمہ بنگلہ دیش پہنچی، تو کچھ عرصے بعد اس کا شوہر بھی ہزاروں دیگر روہنگیا مہاجرین کے ساتھ انہی کیمپوں میں پہنچا اور پھر اپنی بیوی اور اہل خانہ کو بھی تلاش کرنے میں کامیاب رہا۔

فاطمہ کے شوہر علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس کے لیے ’اب بھی‘ اپنی بیوی کے ساتھ رہنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ علی نے کہا، ’’جو کچھ فاطمہ کے ساتھ ہوا، وہ شدید ترین انسانی ظلم تھا، اس میں اس کی کوئی آمادگی شامل نہیں تھی۔‘‘ علی نے اپنے بیان میں ’جو کچھ‘ کے جو الفاظ استعال کیے، ان سے اس کی مراد ظاہر ہے اس کی بیوی کے ساتھ کی گئی ’اجتماعی جنسی زیادتی‘ تھی۔ علی نے یہ بات اس لیے بھی کہی کہ بہت سے روہنگیا مسلمان اپنی ایسی بیویوں سے علیحدگی اختیا رکر چکے ہیں، جو ایسے اجتماعی جنسی مظالم کا نشانہ بنی تھیں۔

ایک ’وجود‘ جو گم ہو گیا

اب ہونا کیا چاہیے؟ فاطمہ کی صرف ایک ہی خواہش ہے، وہ بس واپس اپنے گاؤں جانا چاہتی ہے۔ اپنے وطن میں، جہاں وہ پیدا ہوئی تھی۔ شاید اسے اپنی ذات کے اسی حصے کو دوبارہ پا لینے کی امید ہے، جو راکھین کے ایک جنگل میں ظلم و زیادتی کی انتہاؤں کے بیچ اس رات کہیں کھو گیا تھا۔ انسان زندہ ہو تو جسم اور روح یکجا رہنا تو چاہتے ہی ہیں۔ اس دوبارہ ملاپ سے پہلے کتنا انتظار کرنا پڑے گا، یہ کوئی نہیں جانتا۔ فاطمہ بھی نہیں۔

فاطمہ کی جھونپڑی والی روہنگیا مہاجرین کی اس خیمہ بستی میں عارضی قیام گاہوں کی چھتوں پر ڈالی گئی پلاسٹک کی شیٹوں پر تیز بارش کا شور ابھی جاری تھا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں