اسرائیلی وزیر اعظم کا امریکی کانگریس سے اہم خطاب
24 مئی 2011وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اپنے پانچ روزہ دورہء امریکہ کے آخر میں امریکی کانگریس کے مشترکہ سیشن سے خطاب کریں گے۔ اس سے قبل امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کے علاوہ امریکہ میں اسرائیل نواز گروپ AIPAC سے اپنے خطاب میں انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ وہ اسرائیلی فلسطینی تنازعہ کے حل کے لیے واشنگٹن حکومت کی نئی پالیسی مسترد کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار قیام امن کے لیے اپنے ایک حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام انتہائی اہم ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، اسے مسترد کر دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی کانگریس سے خطاب کے دوران بھی وہ اپنے اس موقف کو دہرائیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یروشلم حکومت خطے میں قیام امن کے لیے کئی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے لیکن وہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کو تسلیم کرنے پر ہر گز تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب ہو گا کہ اسرائیل نے اپنے دفاع پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں نیتن یاہو کے امریکی کانگریس میں آج کے خطاب کو ملکی سیاست کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے ایک مقبول صحافی Aluf Benn نے روزنامہ Haaretz میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوائیں۔
Maariv نامی اسرائیلی اخبار لکھتا ہے کہ امریکی کانگریس میں نیتن یاہو کی یہ تقریر انتہائی اہم اس لیے بھی ہے کیونکہ اسی سے تعین ہو گا کہ مستقبل میں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کس رخ جائیں گے۔ اس اخبار نے نیتن یاہو کی اس تقریر کو ان کی زندگی کا ایک اہم خطاب قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو کانگریس سے خطاب کے دوران مشرق وسطیٰ میں قیام امن سے متعلق اپنی سوچ کا اظہار کریں گے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نئے امن مذاکرت کے لیے یہ شرط رکھیں گے کہ فلسطین اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کرے۔ اسرائیلی ذارئع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو اس بات پر بھی اصرار کریں گے کہ فلسطینی مہاجرین کو اسرائیل واپسی کی اجازت نہیں ہو گی۔
اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین امن مذاکرات ستمبر 2009ء سے تعطل کا شکار ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت معطل ہوگیا تھا، جب اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آباد کاری روکنے سے متعلق عالمی اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔
رپورٹ: عاطف بلوچ
ادارت: مقبول ملک