اداروں کا تصادم خارج از امکان ہے: گیلانی
18 اکتوبر 2010پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ جب تک ان کی حکومت قائم ہے کسی کو اس بات کی توقع نہیں کرنی چاہے کہ ملکی اداروں کے درمیان تصادم کی نوبت آئے گی۔ اپنی نشری تقریر کے وقت وزیر اعظم نے چاروں صوبوں کی لیڈر شپ کو اسلام آباد طلب کر رکھا تھا۔ اس تقریر میں گیلانی نے ججوں کی بحالی کے ایگزیکٹو آرڈر کی تردید کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں کہا کہ یہ وزیر اعظم کے منصب کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس بحث پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایگزیکٹو آرڈر کے واپس لئے جانے کی خبر کے حوالے سے صدر کی تردید بھی سامنے آ چکی ہے۔
دوسری جانب مختلف پاکستانی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فوج کے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی حکومت اور عدلیہ کے درمیان پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بابت بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی حکومت سیاسی اور فوجی قوتوں کے ساتھ مفاہمت پیدا کرکے کام کر رہی ہے تو یقینی طور پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ اپنی تقریر میں یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے ان کو کئی مشکلات سے آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے معزول ججوں کو بحال کر کے دم لیا کیونکہ ان کی شہید لیڈر کا بھی یہ خواب تھا۔ گیلانی کے مطابق ریاستی ادارے افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھیں تو آفتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کشمیر سمیت پاکستان کو درپیش کئی مسائل کا زکر کیا۔
پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایسی قیاس آرائیاں گشت کرتی رہیں ہیں کہ عنقریب عدلیہ مصالحتی ارڈیننس کو خلاف دستور قرار دیتے ہوئے کئی وزرا سمیت پاکستانی صدر کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اس دوران ایک ٹیلی وژن چینل پر ججوں کی بحالی کے ایگزیکٹو آرڈر کی واپسی کی خبر نشر ہونے پر عدالت عظمیٰ کے ججوں کے اندر اضطراب کی کیفیت کو پاکستان کے طول و عرض میں عام و خاص نے واضح طور پر محسوس کیا ۔ عدالت عظمیٰ کے تمام جج رات گئے تک مشاورت میں مصروف رہے۔ اس خبر کے حوالے سے آج پیر کو سترہ رکنی لارجر بییچ ایک بار پھر سماعت کر رہا ہے۔
رپورٹ: عابد حسین
ادارت: کشور مصطفیٰ