1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز سے میڈیا انڈسٹری کو خدشات

21 جولائی 2023

گوگل ایسے ٹولز تیار کر رہا ہے جو صحافیوں کو تحقیق کرنے اور نیوز رپورٹس لکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ لیکن یہ پیش رفت پچھلے برسوں سے جاری ملازمتوں میں تکلیف دہ کٹوتی کے بعد اب پوری میڈیا انڈسٹری کو ہی ہلا کر رکھ سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/4UCxs
Künstliche Intelligenz Symbolbild
تصویر: Taidgh Barron/ZUMAPRESS.com/picture alliance

دنیا کی معروف تکنیکی کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ جن ٹولز کی تیاری کر رہا ہے اس کا مقصد خبر نگاری میں صحافیوں کے لازمی کردار کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ٹولز صحافیوں کوتحقیق کرنے اور مضامین لکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

گوگل نے جمعرات کو بتایا کہ وہ میڈیا کمپنیوں بالخصوص چھوٹے پبلشرز کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے ٹولز کی تیاری پر کام کررہا ہے جو"صحافیوں کو خبروں کی شہ سرخیاں لکھنے یا مختلف انداز تحریر کے متبادل فراہم کرنے "میں مدد گار ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اقوام متحدہ کی پہلی میٹنگ

گوگل کی ترجمان جین سرائیڈر نے اس سلسلے میں کمپنی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمارا مقصد صحافیوں کو ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اس طریقے سے استعمال کرنے کا انتخاب فراہم کرنا ہے جس سے ان کے کام اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ جیسا کہ ہم جی میل اور گوگل ڈاکس کے طورپر لوگوں کو معاون ٹولز دستیاب کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان ٹولز کا مقصد رپورٹنگ، تخلیق اور اپنے مضامین کے حقائق کی جانچ پڑتال میں صحافیوں کے بنیادی کردار کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی ایسا کرسکتے ہیں۔"

گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہے
گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہےتصویر: Choong Deng Xiang/Unsplash

ایک نئی بحث چھڑجانے کا امکان

گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہے۔ کیونکہ اس اے آئی ٹول نے انسانی تقریر کی نقل کرنے کی صلاحیت سے صارفین کو دنگ کردیا ہے لیکن اس نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، غلط معلومات اور انسانی کارکنوں کی جگہ مشینوں کے لینے کے بارے میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

پرنٹ ایڈورٹائزنگ کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی ملازمین کی تعداد میں مسلسل کمی کرنے کی وجہ سے عالمی میڈیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے۔ صرف امریکی نیوز رومز میں ہی رواں برس کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران ریکارڈ 17436ملازمتیں ختم کردی گئیں۔

مصنوعی ذہانت 80 فیصد ملازمتوں کی جگہ لے سکتی ہے، ماہرین

گوگل کی جانب سے اس نئے ٹول، جسے جینیسس کا نام دیا گیا ہے،کو ڈیولپ کرنے کے متعلق سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے خبر دی۔ اس نے بتایا کہ اسے ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالک نیوز کارپ کو پیش کیا گیا ہے۔

ٹائمز کے مطابق میڈیا سے وابستہ بعض اہم افراد، جنہوں نے گوگل کی اس پیش کش کا مشاہدہ کیا ہے، انہوں نے اسے " پریشان کن" قرار دیا ہے۔

تاہم کچھ میڈیا تنظیموں نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا ہے۔ نیوز رومز عام طور پر درستگی، سرقہ اور کاپی رائٹ کے خدشات کے مدنظر خبریں جمع کرنے کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آرٹیفشل انٹیلیجنس کا استعمال محدود کیا جائے، جرمن کونسل

خیال رہے کہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تھا جس سے چیٹ جی پی ٹی تخلیق کرنے والی اس کمپنی کو مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر اور درست بنانے کے لیے اے پی کے 1985 کے بعد سے آرکائیوز کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

 ج ا/ ص ز (اے پی، نیوز ایجنسیاں)