1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹک ٹاک: پاکستان میں پابندیوں کے سبب چھ ملین ویڈیوز ہٹا دیں

1 جولائی 2021

معروف سوشل ویڈیو ویب سائٹ ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان میں اپنی ایپ سے چھ ملین سے زائد ویڈیوز ہٹائی ہیں۔ ویڈیوز ہٹانے کا یہ عمل پاکستان میں اس ایپ پر لگنے والی پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/3vsZY
Ägypten Video von Influencerin Mowada al-Adham
تصویر: KHALED DESOUKI/AFP via Getty Images

دنیا کے زیادہ تر ممالک کی طرح پاکستانی نوجوانوں میں بھی انتہائی مقبول سوشل ویڈیو ایپ ٹک ٹاک پر پاکستان میں دو مرتبہ پابندی عائد کی جا چکی ہے، جس کی وجہ اس پر 'غیر اخلاقی‘ مواد کی موجودگی کو قرار دیا گیا۔ پاکستان بھر میں دوسری بار پابندی رواں برس مارچ میں لگائی گئی تھی۔ ان پابندیوں کے سبب اس چینی ایپ نے اس پر اپلوڈ ہونے والے مواد پر نظر ثانی کا عزم ظاہر کیا۔

ٹک ٹاک کی طرف سے بدھ 30 جون کو جاری کردہ پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے مارچ کے دوران، ''پاکستانی مارکیٹ میں ٹک ٹاک نے 6,495,992 ویڈیوز اپنی ایپ سے ہٹائیں، اس طرح امریکا کے بعد پاکستان دوسری ایسی مارکیٹ ہے جہاں سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں۔ امریکا میں ٹک ٹاک سے ہٹائی گئی ویڈیوز کی تعداد 8,540,088 ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے مطابق جو ویڈیوز ہٹائی گئیں ان میں سے قریب 15 فیصد ''عریانت اور جنسی نوعیت‘‘ کا تھا۔ ایک ترجمان کے مطابق پاکستان میں بنائی گئی ان ویڈیوز کو نا صرف حکومتی بلکہ صارفین کی طرف سے موصول ہونے والی درخواستوں پر ہٹایا گیا۔

Symbolbild Logo TikTok
ٹک ٹاک کی طرف سے پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے مارچ کے دوران، ''پاکستانی مارکیٹ میں ٹک ٹاک نے 6,495,992 ویڈیوز اپنی ایپ سے ہٹائیں۔تصویر: Rasit Aydogan/AA/picture alliance

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان میں ٹک ٹاک کی مخالفت میں چھوٹے پیمانے پر مظاہرے بھی کیے گئے۔ ان مظاہرین کا الزام تھا کہٹک ٹک ہم جنس پرستی پر مبنی مواد پھیلا رہا ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی نگہت داد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی طرف سے ویڈیوز ہٹانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا، ''اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسا حکومتی دباؤ کے تحت کیا گیا یا پھر یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان میں اس پلیٹ فارم کے لیے اس قدر زیادہ مواد بنایا گیا  جس نے اس پلیٹ فارم کو مقبولیت بخشی، یا پھر اس کی دونوں ہی وجہیں ہو سکتی ہیں۔‘‘

ٹک ٹاک پر پابندی اظہار رائے پر پابندی ہے، نگہت داد

نگہت داد کا مزید کہنا تھا، ''سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میں مکمل پابندی سے بچنے کے لیے مواد کو بلاک کرنے کے لیے زیادہ رضامند ہیں۔‘‘

ٹک ٹاک کی طرف سے چھ ملین سے زائد ویڈیوز ہٹانے کا یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستانی صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک جج نے ملک کی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ اگر ٹک ٹاک غیر اخلاقی مواد نہیں ہٹاتا تو اس پر پابندی عائد کر دی جائے۔ تاہم ٹک ٹاک اس وقت پاکستان میں کام کر رہا ہے۔

ا ب ا/ع ح (اے ایف پی، اے پی)