1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شیر کے بچے بہتر زندگی کے لیے غزہ چھوڑ گئے

امجد علی6 جولائی 2015

غزہ پٹی کے ایک مہاجر کیمپ میں مقیم ایک فلسطینی شخص اپنے چھ بچوں کے ساتھ ساتھ شیر کے دو بچوں کو بھی پالتا رہا۔ اب جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم اداروں کی کوششوں سے شیر کے ان بچوں کو اردن میں ایک نیا گھر مل گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1FtSn
Israel Löwenbabys Mona und Max in Gaza
’مَیکس‘ اور ’مونا‘ نامی ان بچوں کی عمریں اب دَس دس مہینے ہو چکی ہیںتصویر: picture alliance/landov

’مَیکس‘ اور ’مونا‘ نامی یہ بچے دَس دَس مہینے کے ہو گئے تو نہ چاہتے ہوئے بھی سمیع الجمال نامی اس فلسطینی نے شیر کے ان بچوں کو اردن کے ایک قدرتی پارک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح وہ منفرد اور انوکھا تعلق اپنے انجام کو پہنچا، جس کی ابتدا نو مہینے پہلے اُس وقت شروع ہوئی تھی، جب ان بچوں نے ایک چڑیا گھر میں جنم لیا تھا۔

ان ننھے شیروں میں سے ایک نر اور ایک مادہ ہے۔ جب سمیع الجمال نے انہیں آسٹریا کی جانوروں کی فلاح کے لیے سرگرم تنظیم ’فور پاز‘ کے حوالے کیا تو وہ اور اُس کے بیوی بچے بھی بہت اداس تھے۔

سمیع الجمال نے کہا کہ اتنے مہینوں ایک ساتھ رہنے کے بعد اُسے اور اُس کے اہلِ خانہ کو ان بچوں سے اُنسیت پیدا ہو گئی تھی:’’یہ دونوں شیر کے بچے میرے لیے اپنے بچوں ہی کی طرح تھے، اب انہیں الوداع کہنا بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ مَیں نے ان کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کی۔‘‘

سمیع الجمال غزہ پٹی کے کنارے پر واقع رفاہ مہاجر کیمپ میں مقیم ہے۔ گزشتہ سال غزہ اسرائیل جنگ کے دوران رفاہ کے چڑیا گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا تاہم تازہ تازہ جنم لینے والے یہ دو بچے بچ گئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد سمیع الجمال نے ان دونوں بچوں کو خرید لیا اور اپنے گھر پر اُن کی پرورش کرنے لگا۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ آگے چل کر ان شیروں کی مدد سے تفریحی پارکوں اور ریستورانوں میں کچھ پیسہ کما سکے گا۔

جیسے جیسے شیر کے یہ بچے بڑے ہوتے گئے، اس فلسطینی کے ہمسایوں نے شکایت کرنا شروع کر دی کہ یہ جانور آس پاس بسنے والے انسانوں اور اُن کے بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ روزانہ تیس یورو کے برابر رقم اِن شیروں کی خوراک اور ضروری ادویات پر خرچ کرتا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان اخراجات کو برداشت کرنا بھی الجمال کے لیے مشکل ہوتا چلا گیا تھا۔

آسٹریا کی تنظیم ’فور پاز‘ (چار پنجے) کو تین مہینے قبل ان بچوں کے بارے میں پتہ چلا تھا اور تب اس نے سمیع الجمال سے رابطہ کر کے اُسے اس بات کا قائل کیا کہ وہ ان شیروں کی بہتر زندگی کے لیے انہیں اردن کے قدرتی پارک میں منتقل کر دے۔ یوں الجمال نے بغیر کوئی معاوضہ لیے اِن شیروں کو اس تنظیم کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔

Israel Löwenbabys Mona und Max in Gaza
غزہ میں تنظیم ’فور پاز‘ کا نمائندہ امیر خلیل اردن کے قدرتی پارک میں منتقلی کی ابتدائی کوشش ناکام ہونے کے بعد شیر کے دونوں بچوں کے ساتھ ایک ہوٹل میںتصویر: picture alliance/ZUMA Press

غزہ میں اس تنظیم کے نمائندے امیر خلیل کے مطابق اسرائیل اور اردن کے ساتھ رابطہ کاری کے نتیجے میں اتوار پانچ جولائی کو یہ ننھے شیر اردن منتقل کر دیے گئے۔ خلیل کے مطابق ایک گنجان آباد علاقے میں ان شیروں کا ایک گھر کے اندر رہنا ناقابلِ یقین بھی تھا اور بہت خطرناک بھی۔

گزشتہ سال بھی ’فور پاز‘ نامی تنظیم نے غزہ پٹی کے شمال میں واقع ایک تباہ شُدہ چڑیا گھر سے بالغ شیروں کے ایک جوڑے کو اردن منتقل کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی بھی غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں کوئی پنتالیس کے قریب شیر موجود ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں