1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گوجرانوالہ میں احمدی خاندانوں پر حملہ: تین ہلاک

عابد حسین28 جولائی 2014

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے پاکستانی صوبے پنجاب کے گنجان آباد شہر گوجوانوالہ کی ایک متوسط طبقے کی بستی میں احمدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے گھروں پر مشتعل ہجوم کے حملے میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

https://p.dw.com/p/1CkBY
احمدیہ کمیونٹی اپنی عبادتگاہ میںتصویر: Getty Images

پاکستان کے ثقافتی شہر لاہور سے 112 کلومیٹر کی دوری پر واقع شہر گوجرانوالہ کی کم آمدنی والی بستی عرفات کالونی میں مقیم چند احمدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو مشتعل ہجوم کے ايک حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی پولیس اہلکار سلیم اختر کے مطابق احمدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک ٹین ایجر عاقب سلیم کی جانب سے فیس بُک پر توہین آمیز مواد پوسٹ کرنے کے باعث اُس کی اپنے مسلمان دوست صدام حسین کے ساتھ گلی میں عام لوگوں کے سامنے ہاتھا پائی ہو گئی۔ پولیس افسر کے مطابق یہی ابتدائی جھگڑا بعد میں ایک بڑے واقعے کا پیش خیمہ بنا۔

جھگڑے کے بعد علاقے کے مشتعل لوگوں نے عرفات کالونی میں احمدی کمیونٹی کے چھ سات مکانوں کو آگ لگا دی۔ عوام کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ احمدی خاندانوں کی جانب سے عام لوگوں پر فائر بھی کیے گئے اور اِس سے اشتعال بڑھا جو انجام کار گھروں میں آگ لگانے کا موجب بنا۔ ایک پولیس افسر نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ توہین آمیز الزام کی صحت بارے تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ گھروں میں آگ لگانے سے ایک ادھیڑ عمر عورت کے ہمراہ دو لڑکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والی ایک لڑکی کی عمر سات برس اور دوسری نوزائیدہ بچی تھی۔

Grundsteinlegung für erste Moschee im Ostteil Berlin
احمدی کمیونٹی کے افراد ایک یورپی ملک میں عبادت کے بعد دعا مانگتے ہوئےتصویر: picture-Alliance/dpa

پولیس کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے وقوعے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مشتعل افراد کا ایک گروپ تھانے میں رپورٹ درج کرانے پہنچا تو دوسری جانب ایک دوسرے گروپ نے گھروں پر دھاوہ بول کر انہیں آگ لگا دی۔ پولیس کے مطابق جس نوجوان لڑکے نے فیس بک پر متنازعہ مواد شائع کیا تھا، وہ زخمی ہونے سے بچ گیا ہے۔ اُس کی گرفتاری کے لیے عملی کارروائی کی جا رہی ہے۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اِس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک انتہائی بھیانک واقعہ ہے۔ چار سال قبل ایک احمدی عبادتگاہ پر حملے میں 84 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ سلیم الدین کے مطابق وقوعے کے وقت پولیس موجود تھی لیکن وہ خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی اور لوگوں کے حملے کو بس دیکھتی رہی۔ سلیم الدین نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں نے پہلے احمدی خاندانوں کے گھروں کو لوٹا اور پھر انہیں آگ لگائی۔

پاکستان میں جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد خود کو مسلمان کے طور پر قانوناً متعارف نہیں کروا سکتے اور ایسا کرنا جرم ہے۔ اِس وقت پاکستان میں توہین اسلام و رسالت ایک انتہائی حساس و نزاعی معاملے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اِس ملک کی کثیر آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ایک انتہائی مختصر اقلیت احمدیت سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے علاوہ مسیحی برادری بھی توہین اسلام و رسالت کے خوف میں مبتلا بتائی جاتی ہے۔ امریکی حکومت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تمام مسلمان ملکوں میں سے پاکستان توہین مذہب کے قوانین پر سب سے زیادہ عمل کر رہا ہے۔ پاکستان کی مختلف جیلوں میں اِس وقت کم از کم چودہ افراد موت کی سزا کے منتظر ہیں جب کہ دیگر 19 کو عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔